حدیث نمبر: 36870
٣٦٨٧٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن يونس بن خباب عن مجاهد قال: إن في النار (لجبابا) (١) فيها حيات كأمثال البخاتي وعقارب كأمثال البغال ⦗١٩٤⦘ الدلم، فيفر أهل النار من النار إلى تلك (الجباب) (٢) فتستقبلهم الحيات والعقارب، فتأخذ شفاههم وأعينهم، قال: فما يستغيثون إلا بالرجوع إلى النار، كان أهونهم عذابا لمن في أخمص قدميه نعلان فيغلي منهما دماغه وأشفاره وأضراسه (٣)، وسائرهم يموجون فيها كالحب القليل في الماء الكثير.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جہنم میں کچھ گڑھے ہیں جس میں بختی اونٹ کی طرح سانپ اور سیاہ خچروں کی طرح بچھو ہیں، جہنمی آگ سے بھاگ کر ان گڑھوں کی طرف جائیں گے وہاں سانپ اور بچھو ان کا استقبال کریں گے، وہ ان کے منہ اور آنکھوں سے ان کو پکڑیں گے، لیکن ان کی مدد نہ ہوگی سوائے اس کے کہ دوبارہ آگ میں جائیں اور جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کو آگ کے جوتے پہنائیں جائیں گے جس کی وجہ سے اس کا دماغ ابلے گا اس کے ہونٹ اور داڑھیں آگ کی ہوں گی وہ سارے جہنمی اس میں ایسے بہیں گے جیسے کہ زیادہ پانی میں تھوڑے سے دانے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (لحيات).
(٢) في [أ، ب]: (الحيات).
(٣) في [ع]: زيادة (نار).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36870
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36870، ترقيم محمد عوامة 35296)