مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته باب: جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
٣٦٨٦٠ - حدثنا محمد بن بشر عن هارون بن أبي إبراهيم عن أبي (نصر) (١) قال: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: أنا يوما عند رسول اللَّه ﷺ فرأيناه كئيبا فقال بعضهم: يا رسول اللَّه بأبي وأمي مالي أراك هكذا؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: "سمعت هدة لم أسمع مثلها، فأتاني جبريل فسألته عنها فقال: هذا صخر قذف به في النار منذ سبعين خريفا فاليوم استقر قراره"، فقال أبو سعيد: والذي ذهب بنفس نبينا ﷺ ما رأيته ضاحكا بعد ذلك اليوم حتى واراه التراب (٢).حضرت ابو سعید خدری ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نے رسول اکرم ﷺ کو غمگین پایا تو کچھ حضرات نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں آپ کو ایسا کیوں دیکھ رہا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے ایک آواز سنی اس جیسی آواز پہلے نہ سنی تھی۔ میں نے حضرت جبرئیل سے دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا : ستر سال پہلے جہنم کی گہرائی میں ایک پتھر پھینکا گیا تھا آج وہ اس کی گہرائی میں پہنچا ہے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کو وفات دی، میں نے اس دن کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے ہوئے نہ دیکھا یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔