حدیث نمبر: 36860
٣٦٨٦٠ - حدثنا محمد بن بشر عن هارون بن أبي إبراهيم عن أبي (نصر) (١) قال: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: أنا يوما عند رسول اللَّه ﷺ فرأيناه كئيبا فقال بعضهم: يا رسول اللَّه بأبي وأمي مالي أراك هكذا؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: "سمعت هدة لم أسمع مثلها، فأتاني جبريل فسألته عنها فقال: هذا صخر قذف به في النار منذ سبعين خريفا فاليوم استقر قراره"، فقال أبو سعيد: والذي ذهب بنفس نبينا ﷺ ما رأيته ضاحكا بعد ذلك اليوم حتى واراه التراب (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید خدری ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نے رسول اکرم ﷺ کو غمگین پایا تو کچھ حضرات نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں آپ کو ایسا کیوں دیکھ رہا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے ایک آواز سنی اس جیسی آواز پہلے نہ سنی تھی۔ میں نے حضرت جبرئیل سے دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا : ستر سال پہلے جہنم کی گہرائی میں ایک پتھر پھینکا گیا تھا آج وہ اس کی گہرائی میں پہنچا ہے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کو وفات دی، میں نے اس دن کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے ہوئے نہ دیکھا یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (نصرة).
(٢) مجهول؛ أبو نصر ويقال: أبو نصير مجهول، قال الدارقطني في المؤتلف ٤/ ٢٢٤١: (أبو نصر مجهول، وقال: وليس هذا هارون بن أبي إبراهيم البربري هو هارون بن أبي إبراهيم بن يزيد)، وانظر: الإكمال ١/ ٣٢٣، والمؤتلف لعبد الغني (ص ١٢٧)، وللدارقطنى ١/ ٢٢٦، وذيل ميزان الاعتدال ١/ ٢١٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36860
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36860، ترقيم محمد عوامة 35286)