حدیث نمبر: 36840
٣٦٨٤٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء قال: يلقى على أهل النار الجوع حتى يعدل عنهم ما هم فيه من العذاب، قال: فيستغيثون فيغاثون بالضريع لا يسمن ولا يغني من جوع فيستغيثون فيغاثون بطعام ذي غُصّة فيذكرون أنهم كانوا يجيزون الغصص بالشراب، فيستغيثون فيغاثون بماء من حميم في كلاليب من حديد، فإذا أدنوه إلي وجوههم شوى وجوههم، فإذا أدخلوه بطونهم قطع ما في بطونهم، قال: فينادون: ﴿دْعُوا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِنَ الْعَذَابِ﴾ قال: فيجابون: ﴿أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا بَلَى (قَالُوا) (١) فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ﴾ [غافر: ٤٩ و ٥٠] قال: فيقولون: نادوا مالكا فينادون: ﴿يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ قال: فأجابهم: ⦗١٨٦⦘ ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ [الزخرف: ٤٣] قال: فيقولون ادعوا ربكم فلا شيء أرحم بكم من ربكم قال: فيقولون: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾! قال: فيجيبهم: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: ١٠٧ و ١٠٨] قال: فعند ذلك يئسوا من كل خير ويأخذون في الويل والشهيق والثبور (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو الدرداء سے مروی ہے کہ جہنمیوں کو بھوک ستائے گی، پھر وہ مدد طلب کریں گے، ان کی ضریع سے مدد کی جائے گی جو ان کا پیٹ نہیں بھرے گی اور نہ ہی ان کو صحت مند کرے گی وہ پھر مدد طلب کریں گے تو ان کی طعام ذی غصۃ سے مدد کی جائے گی (جو گلے میں اٹک جاتی ہے) پھر وہ یاد کریں گے کہ گلے میں اٹک جانے والی چیز کو پینے والی چیز سے دور کرتے تھے، پھر وہ طلب کریں گے پھر ان کو لوہے کے برتنوں میں گرم کھولتا پانی پیش کیا جائے گا، جب وہ اس کو قریب کریں گے تو وہ ان کے چہروں کو جلا دے گا، اور جب اس کو پییں گے تو ان کے پیٹ کے تمام اعضاء کو کاٹ ڈالے گا، پھر وہ پکاریں گے { اُدْعُوَا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِنَ الْعَذَابِ } ان کو جواب دیا جائے گا کہ { أَوَلَمْ تَکُ تَأْتِیکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنَاتِ ، قَالُوا بَلَی ، قَالُوا فَادْعُوَا ، وَمَا دُعَائُ الْکَافِرِینَ إِلاَّ فِی ضَلاَلٍ } پھر وہ کہیں گے مالک کو آواز دو تو وہ کہیں گے { یَا مَالِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّک } مالک ان کو جواب دے گا {إِنَّکُمْ مَاکِثُونَ } پھر وہ کہیں گے اپنے رب کو پکارو، بیشک تمہارے رب سے زیادہ کوئی چیز رحم کرنے والی تم پر نہیں ہے، پھر وہ کہیں گے { رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْہَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ } ان کو جواب دیا جائے گا کہ { اِخْسَؤُوا فِیہَا وَلاَ تُکَلِّمُونِ } پھر وہ ہلاکت و بربادی اور چیخ و پکار کو لازم پکڑیں گے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (قال).
(٢) منقطع حكمًا؛ شهر مدلس، أخرجه ابن أبي الدنيا في صفة النار (٨٤)، وابن جرير ١٨/ ٥٩، وقد ورد مرفوعًا أخرجه الترمذي (٢٥٨٦)، وابن جرير ١٨/ ٥٩، والثعلبي في التفسير ٨/ ٢٤٥، والدينوري في المجالسة (٨٤٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36840
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36840، ترقيم محمد عوامة 35266)