حدیث نمبر: 36839
٣٦٨٣٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن عمرو قال: حدثني يحيى ابن عبد الرحمن بن حاطب عن أبيه قال: جلسنا إلى كعب الأحبار في المسجد وهو يحدث، فجاء عمر فجلس في ناحية القوم فناداه فقال: ويحك يا كعب خوفنا، فقال: والذي نفسي بيده إن النار لتقرب يوم القيامة لها زفير وشهيق حتى إذا أدنيت وقربت زفرت زفرة ما خلق اللَّه من نبي ولا صديق ولا شهيد إلا وجثا لركبتيه ساقطًا، حتى يقول كل نبي وكل صديق وكل شهيد: اللهم لا أكلفك اليوم إلا نفسي، ولو كان لك يا ابن الخطاب عمل سبعين نبيا لظننت أن لا تنجو، قال عمر: (واللَّه) (١) إن الأمر لشديد (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت کعب بن احبار رحمہ اللہ کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے وہ حدیث بیان کر رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں کے کنارے پر تشریف فرما ہوگئے پھر ان کو پکارا اور کہا اے کعب تیرا ناس ہو، آج آپ نے ہمیں خوف زدہ کردیا حضرت کعب نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، قیامت کے دن آگ قریب ہوجائے گی اس کیلئے چیخ و پکار ہوگی یہاں تک کہ جب وہ قریب ہوجائے گی تو وہ ایک مرتبہ سانس لے گی اس کی ہیبت کی وجہ سے تمام انبیاء صدیقین اور شہداء گھٹنوں کے بل جھک جائیں گے، اور پھر ہر نبی صدیق اور شہید کہے گا : اے اللہ آج میں آپ سے صرف اپنا ہی سوال کرتا ہوں اور اے ابن خطاب ! اگر تیرے لیے نبیوں کا عمل بھی ہو پھر بھی تجھے خوف ہوگا کہ تیری نجات نہ ہوگی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : خدا کی قسم معاملہ بہت زیادہ سخت ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36839
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو بن علقمة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36839، ترقيم محمد عوامة 35265)