حدیث نمبر: 3679
٣٦٧٩ - حدثنا عبد الأعلى عن داود عن الشعبي: أن سعيد بن العاص صلى بالناس الظهر والعصر فجهر بالقراءة، فسبح القوم، فمضى في قراءته، فلما فرغ صعد المنبر، فخطب الناس، فقال: في كل صلاة قراءة (فإن) (١) (صلاة) (٢) النهار (لخرس) (٣)، وإني كرهت أن أسكت، فلا ترون أني فعلت ذلك بدعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عاص نے لوگوں کو ظہر یاعصر کی نماز پڑھائی اور اس میں اونچی آواز سے قرائت کی، لوگوں نے پیچھے سے تسبیح کہنی شروع کردی۔ حضرت سعید نے اپنی قراءت کو جاری رکھا اور جب فارغ ہوئے تو منبر پر چڑھے اور فرمایا ” ہر نماز میں قراءت ہوتی ہے، اور دن کی نمازیں گونگی ہوتی ہیں یعنی ان میں قراءت آہستہ آواز سے ہوتی ہے۔ مجھے خاموش رہنا ناپسند ہے۔ پس تم یہ خیال نہ کرنا کہ میں نے کوئی بدعت کا عمل کیا ہے۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (إن).
(٢) سقط من: [د].
(٣) في [ب]: (يخرس)، وفي [هـ]: (الخرس)، وفي [د] (تخرس)، وفي [أ]: (مخرس).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3679
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3679، ترقيم محمد عوامة 3661)