مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
حدیث نمبر: 36748
٣٦٧٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن مجاهد عن عبد اللَّه ابن الحارث قال: أصحاب الأعراف ينتهي بهم إلى نهر يقال له: الحياة، حافتاه قصب ذهب، قال: أراه قال: مكلل باللؤلؤ، فيغتسلون منه اغتسالة فتبدو في نحورهم شامة بيضاء، ثم يعودون فيغتسلون فكلما اغتسلوا ازدادت بياضا، فيقال لهم: تمنوا ما شئتم، فيتمنون ما شاؤا، فيقال: لكم ما تمنيتم وسبعون ضعفًا، فهم مساكين أهل الجنة (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب الاعراف کو نہر حیات پر لایا جائے گا، ان کے کنارے سونے کے بانسوں کے ہوں گے۔ موتیوں کا تاج پہنے ہوئے، وہ اس نہر میں نہائیں گے جس کی وجہ سے ان کی گردن سفید ہوجائے گی اور پھر وہ دوبارہ لوٹیں گئے اور نہائیں گے، جب بھی نہائیں گے ان کی سفیدی میں اضافہ ہوگا، ان سے کہا جائے گا جو چاہو تمنا کرو، وہ جو چاہیں گے تمنا کریں گے، ان سے کہا جائے گا تمہارے لیے وہ سب ہے جس کی تم نے تمنا کی اور ستر گنا اور بھی ہے، یہ لو گ مساکین اہل الجنۃ میں سے ہیں۔