مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
حدیث نمبر: 36741
٣٦٧٤١ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن حميد بن هلال عن (بُشَيْر) (١) بن كعب قال: قال كعب: إن في الجنة ياقوتة ليس فيها صدع ولا وصل فيها سبعون ألف دار، في كل دار سبعون ألفا من الحور العين، لا يدخلها إلا نبي أو صديق أو شهيد أو إمام عادل أو محكم في نفسه، قال: قلنا: يا كعب وما المحكم في نفسه؟ قال: الرجل (يأخذه) (٢) العدو فيحكمونه بين أن يكفر أو يلزم الإسلام فيقتل، فيختار أن يلزم الإسلام.مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنت میں ایک یا قوت ہے جس میں نہ سوراخ ہے اور نہ ہی جوڑ ہے جنت میں ستر ہزار گھر ہیں اور ہر گھر میں ستر ہزار حوریں ہیں اس میں صرف نبی، صدیق، شہید، عادل بادشاہ یا وہ شخص داخل ہوگا جو اپنے نفس پر فیصلہ کرنے والا ہوگا راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے کعب ؟ محکم فی نفسہ کون شخص ہے ؟ فرمایا وہ شخص جس کو دشمن پکڑ لیں پھر اس کو اختیار دیں کہ وہ کفر اختیار کرلے یا پھر اسلام کو لازم پکڑے تو اس کو شہید کردیا جائے اور وہ اسلام پر ثابت قدم رہنے کو لازم پکڑے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (بشر).
(٢) في [هـ]: (يأخذ).