مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
٣٦٧٢٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن مجالد عن الشعبي عن المغيرة بن شعبة قال: قال موسى: يا رب (١) (ما لأدنى) (٢) أهل الجنة منزلة؟ قال: رجل يبقى في الدمنة (حيث) (٣) (يحبس) (٤) الناس، قال: فيقال له: قم فأدخل الجنة، قال: أين أدخل وقد سبقني الناس؟ قال: فيقال له: تمن أربعة ملوك من ملوك الدنيا ممن كنت تتمنى مثل ملكهم وسلطانهم، قال: فيقول: فلان، قال: فيعد أربعة ثم يقال له: تمن (بقلبك) (٥) ما شئت، قال: فيتمنى، قال: ثم يقال له: اشته ما شئت، قال: فيشتهي، قال: فيقال: لك هذا وعشرة أضعافه، قال: فقال موسى: ⦗١٦٠⦘ يا رب، فما لأهل صفوتك؟ قال: فقيل: هذا الذي أردت، قال: خلقت كرامتهم وعملتها بيدي، وختمت على خزائنها ما لا عين رأت ولا خطر على قلب بشر، ثم تلا: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [السجدة: ١٧] (٦).حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ ! ادنیٰ جنتی کا رتبہ کیا ہوگا ؟ فرمایا ایک شخص جانوروں کے باڑہ میں باقی رہے گا (کوڑے خانے میں) اس طور پر کہ لوگوں نے اس کو محبوس کیا ہوگا، اس کو حکم ہوگا جنت میں داخل ہوجاؤ وہ عرض کرے گا کہاں سے داخل ہوجاؤں لوگوں نے تو مجھ سے سبقت کرلی ہے ؟ اس کو کہا جائے گا دنیا کے چار بادشاہوں کی بادشاہت اور سلطنت کے بقدر تمنا اور خواہش کر وہ کہے گا فلاں بادشاہ پس وہ چار بادشاہوں کو گنے گا پھر اس کو کہا جائے گا اپنے دل میں جو جو چاہے خواہش کر وہ تمنا کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا جو چاہو خواہش کرلے، وہ خواہش کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا یہ سب بھی تیرے لیے ہے اور دس گنا اور بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ ! آپ کے مخلص دوستوں کیلئے کیا نعمتیں ہیں ؟ ان سے کہا گیا، یہ ہے جو میں نے ارادہ کیا ہے میں نے ان کے اکرام کیلئے بنایا ہے اور اپنے ہاتھ سے بنا کر ان پر مہر لگا دی ہے، جن نعمتوں کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی بشر کے دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن }