حدیث نمبر: 36722
٣٦٧٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن النعمان بن (سعد) (١) عن علي في هذه الآية: ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [مريم: ٨٥]، (قال) (٢): ثم قال: هل تدرون على أي شيء يحشرون؟ أما واللَّه ما يحشرون على أقدامهم، ولكنهم يؤتون بنوق لم تر الخلائق مثلها، عليها رحال الذهب، وأزمتها الزبرجد، فيجلسون عليها، ثم ينطلق بهم حتى يقرعوا باب الجنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کس چیز پر ان کو جمع کیا جائے گا ؟ خدا کی قسم ان کو قدموں کے بل (چل کر) نہیں جمع کیا جائے گا بلکہ وہ ایسے اونٹوں پر آئیں گے جن کے مثل لوگوں نے پہلے دیکھا نہ ہوگا ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے، ان کی لگا میں زبر جد کی ہوں گی وہ متقین ان پر بیٹھیں ہوں گے پھر وہ جانور ان کو لے کر چلیں گے یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازوں کو کھٹکھٹائیں گے۔

حواشی
(١) في [ح]: (سعيد).
(٢) سقط من: [جـ، هـ].
(٣) مجهول؛ لجهالة النعمان بن سعد، أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في زيادات المسند (١٣٣٣)، والطبري في التفسير ١٦/ ١٢٦.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36722
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36722، ترقيم محمد عوامة 35148)