مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
٣٦٧٢١ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: ثنا زهير بن محمد عن (سهيل) (٢) ابن أبي صالح عن النعمان بن أبي عياش عن أبي سعيد الخدري أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن أدنى أهل الجنة منزلة رجل صرف اللَّه (٣) وجهه عن النار قبل الجنة، ومثل له شجرة ذات ظل فقال: أي رب! قدمني إلى هذه الشجرة أكون في ظلها، فقال اللَّه: هل عسيتَ إن فعلتُ أن تسألني غيره؟ فقال: لا وعزتك، فقدمه اللَّه إليها، ومثل له شجرة أخرى ذات ظل وثمرة فقال: أي رب! قدمني إلى هذه الشجرة (لأكون) (٤) في ظلها وآكل من ثمرها، فقال اللَّه: هل عسيت إن (أعطيتك) (٥) ذلك أن تسألني غيره؟ فقال: لا وعزتك، فقدمه اللَّه إليها، فتمثل له شجرة أخرى ذات ظل وثمر وماء فيقول: أي رب، قدمني إلى هذه الشجرة أكون في ظلها وآكل من ثمرها وأشرب من مائها، (فيقول) (٦): هل عسيت إن فعلت أن تسألني غيره؟ فيقول: لا وعزتك، لا أسألك غيره، فيقدمه اللَّه إليها، قال: فيبرز له باب الجنة فيقول: أي رب! قدمني إلى باب الجنة فكون تحت (نجاف) (٧) الجنة وانظر إلى أهلها، فيقدمه اللَّه إليها فيرى أهل الجنة وما فيها فيقول: أي رب! أدخلني الجنة، فيدخله اللَّه الجنة فإذا دخل الجنة قال: هذا (وهذا) (٨) لي، فيقول اللَّه: تمن، فيتمنى، ويذكره اللَّه: سل من كذا وكذا، حتى إذا انقطعت به الأماني قال اللَّه: هو لك وعشرة أمثاله، قال: ⦗١٥٨⦘ ثم يدخل بيته فيدخل عليه زوجتاه من الحور العين فتقولان له: الحمد للَّه الذي اختارك لنا واختارنا لك، فيقول: ما أعطي أحد مثل ما أعطيت" (٩).حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ادنیٰ جنتی کا رتبہ جنت میں یہ ہوگا کہ اللہ ایک شخص کا چہرہ جہنم سے جنت کی طرف پھیر دیں گے، اس کیلئے ایک سایہ دار درخت ظاہر کیا جائے گا وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر تجھے اس کے قریب کر دوں تو کیا تو اس کے علاوہ مجھ سے کچھ سوال کرے گا وہ عرض کرے گا نہیں تیری عزت کی قسم نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ اس شخص کو درخت کے قریب فرما دے گا پھر اس کو ایک اور درخت دکھایا جائے گا جو سایہ دار اور پھل دار ہوگا وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پھل کھا سکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں تجھے یہ عطا کر دوں تو اس کے علاوہ مجھ سے دوبارہ کچھ سوال کرے گا وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم نہیں اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب فرما دے گا پھر اس کیلئے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا جو سایہ دار پھل دار اور پانی والا ہوگا وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پھل کھا سکوں اور اس کا پانی پی سکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر تجھے دے دوں تو کیا تو دوبارہ مجھ سے سوال کرے گا وہ شخص عرض کرے گا تیری عزت کی قسم اس کے علاوہ سوال نہ کروں گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب فرما دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کیلئے جنت کے دروازے کو ظاہر فرمائے گا تو وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کی چوکھٹ کے نیچے بیٹھ کر اس کے رہنے والوں کو دیکھ سکوں اللہ تعالیٰ اس کو قریب فرما دے گا پھر وہ شخص جنتی لوگوں کو اور جنت کی نعمتوں کو دیکھے گا تو وہ شخص عرض کرے گا اللہ جی مجھے جنت میں داخل فرما دے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرما دے گا جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو کہے گا یہ میرے لیے ہے اور یہ بھی میرے لیے ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو خواہش کر وہ خواہش کرے گا، اللہ پاک اس کو یاد دلائیں گے کہ یہ یہ سوال کر، یہاں تک کہ جب اس کی تمام خواہشات مکمل ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ بھی تیرے لیے ہے اور اس کی مثل دس گنا اور بھی پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو اس کے پاس اس کی دو بیویاں جو حورعین میں سے ہوں گی آئیں گی اور کہیں گی تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے آپ کو ہمارے لیے اور ہمیں آپ کے لیے منتخب کیا وہ جنتی کہے گا جس طرح مجھے عطا کیا گیا ہے اس جیسا کسی کو عطا نہیں کیا گیا ہے۔