مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
٣٦٧٢٠ - حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عبيدة قال: حدثني محمد بن كعب عن عوف بن مالك الأشجعي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني لأعلم آخر أهل الجنة دخولا الجنة، رجلا كان يسأل اللَّه أن يزحزحه عن النار، إذا دخل أهل الجنة الجنة وأهل النار النار كان بين ذلك، فقال: يا رب أدنني من باب الجنة، فقيل: يا ابن آدم ألم تسأل أن تزحزح عن النار، (فقال) (١): (يا رب) (٢) ومن مثلُك؟ فأدنني من باب الجنة (٣)، فنظر إلى شجرة عند باب الجنة فقال: أدنني منها لأستظل بظلها وآكل من ثمرها، قال: يا ابن آدم ألم تقل، فقال: يا رب ومن مثلُك؟ فأدنني منها (فرأى) (٤) أفضل من ذلك، فقال: يا رب أدنني (منها) (٥)، فقال: يا ابن آدم ألم تقل، حتي قال: يا رب ومن مثلك؟ فأدنني، فقيل: اعْدُ -قال أبو بكر: العدو: الشد- فلك ما بلغته قدماك ورأته عيناك، قال: فيعدو حتى إذا بلح -يعني أعيا- قال: يا رب، هذا لي وهذا لي، فيقال: لك مثله وأضعافه، فيقول: قد رضي عني ربي، فلو أذن لي في كسوة أهل الدنيا وطعامهم لأوسعتهم" (٦).حضرت عوف بن مالک سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اس آخری شخص کو بھی جانتا ہوں جس کو جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شخص ہوگا جو اللہ سے سوال کرے گا کہ اس کو جہنم سے نکال دیا جائے یہاں تک کہ جب جنتیوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور جہنمی لوگ جہنم میں داخل ہوجائیں یہ ان کے درمیان ہوگا وہ عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے اس کو کہا جائے گا اے ابن ادم ! کیا تو نے سوال نہیں کیا تھا کہ تجھ کو جہنم سے نکال دیا جائے ؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا اے ابن ادم ! کیا تو نے سوال نہیں کیا تھا کہ تجھ کو جہنم سے نکال دیا جائے ؟ وہ عرض کرے گا آپ کی طرح کون ہے اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ پھر وہ جنت کے دو وازے کے پاس درخت دیکھے گا تو عرض کرے گا، مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور امن کا پھل کھا سکوں اللہ فرمائیں گے ابن آدم ! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ پھر سوال نہ کروں گا ؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، پھر وہ اس سے بھی اعلیٰ دیکھے گا تو عرض کرے گا اے میرے اللہ ! مجھے اس کے قریب کر دے اللہ فرمائے گا اے ابن آدم ! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ دوبارہ سوال نہ کروں گا ؟ وہ عرض کرے گا اللہ جی ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا جنت کی طرف دوڑ جتنی جنت پر تیرے قدم پڑیں اور تیری آنکھیں جتنی جنت کو دیکھے وہ تیرے لیے ہے وہ دوڑے گا یہاں تک کہ تھک کر چکنا چور ہوجائے گا تو عرض کرے گا اے اللہ ! کیا یہ اور وہ میرے لیے ہے ؟ اللہ فرمائے گا اس کے مثل اور اس سے دو گنا بھی تیرے لیے ہے، وہ عرض کرے گا میرا رب مجھ سے راضی ہوگیا، اگر مجھے دنیا والوں کے لباس اور ان کی خوراک کی اجازت دی جائے تو میں اس پر قادر ہوسکتا ہوں۔