مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
٣٦٧١٢ - حدثنا وكيع بن الجراح عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة قال: ﴿وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا. . .﴾ [الزمر: ٧٣] حتى إذا انتهوا إلى باب من أبواب الجنة وجدوا عند بابها شجرة (يخرج) (١) من تحت (ساقها) (٢) عينان فيأتون إحداهما كأنما أمروا بها فيتطهرون (منها) (٣) فتجري عليهم نضرة ⦗١٥٣⦘ النعيم، قال: فلا (تتغير) (٤) أبشارهم بعدها أبدا، ولا تشعث شعورهم بعدها أبدا، كأنما دهنوا (بالدهان) (٥)، قال: ثم يعمدون إلى الأخرى فيشربون منها فتذهب (ما) (٦) في بطونهم من أذى (و) (٧) قذى وتتلقاهم الملائكة فيقولون: ﴿سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ﴾ قال: ويتلقى كل غلمان صاحبهم يطيفون به فعل الولدان بالحميم يقدم من الغيبة، (٨) أبشر قد أعبد اللَّه لك من الكرامة كذا، (قال) (٩): ويسبق غلمان من غلمانه إلى أزواجه من الحور العين فيقولون (لهن) (١٠): هذا فلان -باسمه في الدنيا- قد أتاكن، قال: فيقلن: أنتم رأيتموه؟ فيقولون: نعم قال: فيستخفهن الفرح حتى يخرجن إلى أسكفة الباب، قال: ويدخل الجنة فإذا نمارق مصفوفة وأكواب موضوعة وزرابي مبثوثة، فيتكئ على أريكة من أرائكه، قال: فينظر إلى تأسيس بنيانه فإذا هو قد أسس على جندل اللؤلؤ بين أصفر وأحمر وأخضر ومن كل لون، قال: ثم يرفع طرفه إلى سقفه فلولا أن اللَّه قدره له لألم بصره أن يذهب بالبرق ثم قرأ: ﴿وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا (وَمَا كنا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ) (١١)﴾ [الأعراف: ٤٣] (١٢).حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کریم آیت { وَسِیقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ جب جنتی جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر پہنچیں گے تو اس کے دروازے کے پاس ایک درخت پائیں گے اس کی جڑوں سے دو چشمے جاری ہوں گے وہ جنتی انہی میں سے ایک پر آئیں گے جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا ہو اور پھر وہ اس سے طہارت حاصل کریں گے، پھر ان پر نضرۃ النعیم کا پانی چلایا جائے گا پھر اس کے بعد ان کے بدن میں تبدیلی نہ آئے گی پھر اس کے بعد پراگندہ نہ ہوں گے گویا کہ ان پر تیل یا روغن ملا ہو پھر وہ دوسرے چشمے پر آئیں گے اور اس میں سے پییں گے، اس کے پینے کی وجہ سے ان کے پیٹ کی ہر قسم کی بیماری اور تکلیف دور ہوجائے گی۔ ٢۔ فرشتوں کی ان سے ملاقات ہوگی فرشتے ان سے کہیں گے { سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ ، فَادْخُلُوہَا خَالِدِینَ } راوی فرماتے ہیں : خوشخبری ہے تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کرامت تیار کر رکھی ہے، پھر ان کے غلاموں میں سے کچھ غلام ان کی حوروں کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے یہ فلاں ہے (ان کے دنیا کے نام کے ساتھ پکاریں گے) تمہارے پاس آئیں گے، وہ حوریں پوچھیں گی تم نے ان کو دیکھا ہے ؟ وہ کہیں گے کہ جی ہاں، پس وہ حوریں خوشی کو ہلکا سمجھیں گی اور دروازے کی دہلیز سے نکل جائیں گی۔ ٣۔ وہ جتنی جنت میں داخل ہوگا تکیے لگے ہوں گے پیالے رکھے ہوں گے، کپڑے بکھرے ہوں گے، وہ ان میں سے ایک تکیہ پر ٹیک لگائے گا، پھر وہ ان کی بنیادوں کی طرف دیکھے گا، ان کی بنیادیں زرد سرخ اور سبز رنگ کے بڑے موتیوں سے رکھی گئیں ہیں، پھر وہ چھت کی طرف دیکھے گا، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو قدرت نہ دی ہوتی تو اس چمک کی وجہ سے اس کی بینائی زائل ہوجاتی پھر آپ نے یہ آیت پڑھی { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ہَدَانَا لِہَذَا ، وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلاَ أَنْ ہَدَانَا اللَّہُ }۔