مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
حدیث نمبر: 36695
٣٦٦٩٥ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن عطاء بن السائب عن عمرو بن ميمون قال: حدثنا عبد اللَّه بن مسعود أن المرأة من نساء أهل الجنة تلبس سبعين حلة من حرير فيرى بياض ساقها وحسن ساقها ومخ ساقها من وراء ذلك كله، وذلك أن اللَّه يقول: ﴿كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ [الرحمن: ٥٨]، (إلا) (٢) وإنما الياقوت حجر، (فإن) (٣) أخذت سلكا (و) (٤) جعلته في ذلك الحجر ثم استصفيته رأيت السلك من وراء الحجر (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ جنت کی حور ریشم کے ستر کپڑے پہنے گی، اس میں سے بھی اس کی پنڈلی کی سفیدی نظر آئے گی، اور اس کی پنڈلی کا گود ابھی اس میں مکمل نظر آئے گا، یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا : { کَاَنَّہُنَّ الْیَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ } یا قوت تو ایک پتھر ہے، اگر آپ ایک دھاگا لیں اور اس کو اس پتھر پر رکھیں، پھر اس کو چنیں تو آپ اس دھاگے کو اس پتھر کے پیچھے سے دیکھیں گے۔
حواشی
(١) سقط في النسخ سوى [هـ]، وانظر: العلل للدارقطني ٥/ ٢٢٧، وتفسير ابن جرير ٢٧/ ١٥٢.
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (فإذا).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ].