مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
٣٦٦٨٩ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن زياد مولى بني مخزوم قال: سمعت أبا هريرة يقول: (إن) (١) في الجنة لشجرة يسير الراكب في ظلها مائة عام واقرءوا إن شئتم: ﴿وَظِلٍّ مَمَّدُودٍ﴾ [الواقعة: ٣٠]، فبلغ ذلك كعبا (فقال) (٢): صدق (و) (٣) الذي أنزل التوراة على لسان موسى والفرقان على لسان محمد ﷺ لو أن رجلا ركب حقة أو جذعة ثم (أدار) (٤) بأصل تلك الشجرة ما بلغها حتى ⦗١٤٦⦘ يسقط هرما، إن اللَّه غرسها بيده ونفخ (فيها) (٥) من روحه، وإن أفنانها من وراء سور الجنة، وما في الجنة نهر إلا يخرج من أصل تلك الشجرة (٦).حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جنت میں ایک درخت ہے سوار سو سال تک اس کے سایہ میں دوڑ کر اس کی لمبائی ختم نہیں کرسکتا، اگر چاہو تو قرآن کریم کی آیت { وَظِلٍّ مَمْدُودٍ } پڑھ لو۔ حضرت کعب تک یہ بات پہنچی تو حضرت کعب نے فرمایا قسم اس خدا کی جس نے حضرت موسیٰ پر تورات نازل فرمائی اور حضور ﷺ کی زبان پر قرآن نازل فرمایا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے اگر کوئی سوار اونٹ پر سوار ہو اور پھر اس درخت کی جڑوں تک پہنچنا چاہے تو نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ وہ بوڑھا ہو کر گرپڑے اللہ تعالیٰ نے اس درخت کو اپنے ہاتھوں سے بویا ہے اور اس میں اپنی روح پھونکی ہے اس درخت کے کنارے جنت کی فصیل کے پیچھے ہیں اور جنت کی تمام نہریں اس درخت کی جڑوں سے جاری ہوتی ہیں۔