٣٦٥٩٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي حدثنا (حبان) (١) عن مجالد عن الشعبي قال: كتب أبو موسى إلى عمر أنه يأتينا كتب ما نعرف تاريخها فأرخ، فاستشار أصحاب النبي ﷺ فقال بعضهم: أرخ لمبعث رسول اللَّه ﷺ وقال ⦗١٣٣⦘ بعضهم: أرخ لموت رسول اللَّه ﷺ، فقال عمر: (أؤرخ) (٢) لمهاجر رسول اللَّه ﷺ، فإن مهاجر رسول اللَّه ﷺ فرق بين الحق والباطل (فأرخ) (٣).حضرت شعبی سے مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ہمارے پاس آپ کے مکتوب گرامی آئے ہیں ہمیں ان کی تاریخ کا علم نہیں ہوتا لہذا آپ ہمارے لیے تاریخ کا تعین کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م سے مشورہ فرمایا، بعض صحابہ نے رائے دی کہ حضور ﷺ کی بعثت سے تاریخ مقرر کی جائے، اور دیگر بعض صحابہ کی رائے تھی کہ حضور رضی اللہ عنہ کی وفات سے تاریخ مقرر کی جائے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں حضور ﷺ کی ہجرت سے تاریخ مقرر کروں گا کیوں کہ حضور ﷺ کی ہجرت حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے، پس انہوں نے ہجرت سے تاریخ مقرر فرمائی۔