حدیث نمبر: 3643
٣٦٤٣ - حدثنا أبو الأحوص عن سعيد بن مسروق عن محارب بن دثار عن جابر بن عبد اللَّه قال: أمَّ معاذ قومًا في صلاة المغرب، فمر به غلام من الأنصار وهو يعمل على بعير له فأطال بهم معاذ، فلما رأى ذلك الغلام ترك الصلاة وانطلق في طلب بعيره، فرفع ذلك إلى النبي ﷺ فقال: "أفَتَانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟! أَلَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَغرِبِ بـ: ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ و ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾؟ " (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ نے کچھ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی، اتنے میں انصار کا ایک غلام جو اپنے اونٹ کا کچھ کام کررہا تھا وہاں سے گذرا اور جماعت میں شریک ہوگیا۔ حضرت معاذ نے قراءت بہت لمبی کردی، جس کی وجہ سے وہ غلام نماز توڑ کر اپنے اونٹ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا ” اے معاذ ! کیا تم لوگوں کو دین سے دور کرنا چاہتے ہو ! تم میں سے کوئی مغرب میں سورة الاعلیٰ اور سورة الشمس نہ پڑھے “