مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه عمر إلى الشام باب: سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کی طرف لشکر کی روانگی
٣٦١٢٣ - حدثنا شريك عن عطاء عن (ابن وائل أو) (١) وائل بن علقمة أنه شهد الجيش بكربلاء، قال: فجاء رجل فقال: أفيكم حسين، فقال: من أنت؟ (قال) (٢): أبشر بالنار، فقال: بل رب غفور (و) (٣) شفيع مطاع، قال: ⦗٨٠⦘ (من أنت؟) (٤) قال: ابن (حويزة) (٥)، قال: اللهم جره إلى النار، قال: فذهب فنفر به فرسه على ساقية فتقطع فما بقي منه غير (رجليه) (٦) في الركاب (٧).حضرت ابن وائل یا وائل بن علقمہ فرماتے ہیں کہ میں کربلا میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کیا تم میں حسین ہے ؟ انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو۔ اس نے کہا تمہیں جہنم کی خبر دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا رب معاف کرنے والا ہے اور سفارشی کی بات مانی جاتی ہے۔ تم کون ہو ؟ اس نے کہا کہ میں ابن حویزہ ہوں۔ حضرت حسین نے اسے بددعا دی اور کہا کہ اے اللہ اسے جہنم کی طرف کھینچ کرلے جا۔ اس کے بعد جب وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا تو اس کا گھوڑا بدک گیا اور اندھا دھند بھاگنے لگا، گھوڑے نے اسے ایسا گھسیٹا کہ گھوڑے کی زین میں اس کے پاؤں کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔