حدیث نمبر: 36122
٣٦١٢٢ - حدثنا شريك عن أبي (الجويرية) (١) الجرمي قال: كنت فيمن سار إلى الشام يوم (الخازر) (٢) فالتقينا، و (هبت) (٣) الريح عليهم (وأدبروا) (٤) فقتلناهم عشيتنا وليلتنا حتى أصبحنا، قال: فقال إبراهيم: -يعني ابن الأشتر: إني قتلت البارحة رجلا وإني وجدت (منه) (٥) ريح طيب، وما أراه إلا ابن مرجانة، شرقت رجلاه وغرب رأسه (أو شرق رأسه وغربت) (٦) رجلاه، قال: فانطلقت فنظرت فإذا هو واللَّه -يعني (عبيد اللَّه) (٧) بن زياد.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یوم خازر کو شام کی طرف گئے تھے۔ جب ہمارا دشمن سے سامنے ہوا تو ٹھنڈی ہوا چلی اور وہ سب ٹھنڈ سے گھبرا گئے، ہم نے شام سے لے کر صبح تک ان سے قتال کیا۔ ابراہیم بن اشتر نے بتایا کہ میں نے گزشتہ رات ایک آدمی کو قتل کیا اور مجھے اس سے اچھی خوشبو آئی۔ میرے خیال میں وہ ابن مرجانہ تھا۔ وہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا اس کے پاؤں مشرق کی طرف اور سر مغرب کی طرف یا سر مشرق کی طرف اور پاؤں مغرب کی طرف ہوگئے تھے۔ پس میں گیا اور میں نے دیکھا تو وہ وہی یعنی عبید اللہ بن زیاد تھا۔

حواشی
(١) في [أ، جـ]: (الجويرب)، وفي [ب، س، ط]: (الحويرث).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (الحارد)، وفي [جـ]: (الحاذر)، وفي [و]: (الحارذ).
(٣) في [ط، هـ]: (هب).
(٤) في [جـ]: (فأدبروا).
(٥) سقط من: [أ، جـ].
(٦) في [أ، جـ]: (أو غرب رأسه وشرقت رجلاه).
(٧) في [أ، هـ]: (عبد اللَّه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36122
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36122، ترقيم محمد عوامة 34547)