مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه عمر إلى الشام باب: سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کی طرف لشکر کی روانگی
٣٦١٢٢ - حدثنا شريك عن أبي (الجويرية) (١) الجرمي قال: كنت فيمن سار إلى الشام يوم (الخازر) (٢) فالتقينا، و (هبت) (٣) الريح عليهم (وأدبروا) (٤) فقتلناهم عشيتنا وليلتنا حتى أصبحنا، قال: فقال إبراهيم: -يعني ابن الأشتر: إني قتلت البارحة رجلا وإني وجدت (منه) (٥) ريح طيب، وما أراه إلا ابن مرجانة، شرقت رجلاه وغرب رأسه (أو شرق رأسه وغربت) (٦) رجلاه، قال: فانطلقت فنظرت فإذا هو واللَّه -يعني (عبيد اللَّه) (٧) بن زياد.حضرت ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یوم خازر کو شام کی طرف گئے تھے۔ جب ہمارا دشمن سے سامنے ہوا تو ٹھنڈی ہوا چلی اور وہ سب ٹھنڈ سے گھبرا گئے، ہم نے شام سے لے کر صبح تک ان سے قتال کیا۔ ابراہیم بن اشتر نے بتایا کہ میں نے گزشتہ رات ایک آدمی کو قتل کیا اور مجھے اس سے اچھی خوشبو آئی۔ میرے خیال میں وہ ابن مرجانہ تھا۔ وہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا اس کے پاؤں مشرق کی طرف اور سر مغرب کی طرف یا سر مشرق کی طرف اور پاؤں مغرب کی طرف ہوگئے تھے۔ پس میں گیا اور میں نے دیکھا تو وہ وہی یعنی عبید اللہ بن زیاد تھا۔