حدیث نمبر: 36120
٣٦١٢٠ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: لما قدم عمر الشام كان قميصه قد (تجوب) (١) عن مقعدته: قميص (سنبلاني) (٢) غليظ، فأرسل به إلى صاحب أذرعات أو (أيلة) (٣) قال: فغسله ورقعه، (وخيط) (٤) (له) (٥) قميص (قبطري) (٦)، فجاءه به فألقى إليه (القبطري) (٧) فأخذه عمر فمسه فقال: هذا (لين) (٨)، فرمى به إليه وقال: ألق إليَّ قميصي فإنه أنشفهما للعرق (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر شام آئے تو ان کی قمیص پیچھے کی جانب سے پھٹی ہوئی تھی، وہ ایک موٹی سنبلانی قمیص تھی۔ آپ نے وہ قمیص درزی کے پاس بھیجی وہ اس نے دھو کر رفو کی اور ان کے لئے ایک قبطری قمیص سی دی اور ان کی طرف دونوں قمیصوں کو لایا۔ اور قبطری قمیص آپ کی خدمت میں پیش کی۔ حضرت عمر نے اسے چھوا اور فرمایا کہ یہ نرم ہے۔ پھر آپ نے وہ قمیص اس کی طرف پھینک دی اور اس سے کہا میری قمیص مجھے دے دو وہ پسینے کو زیادہ جذب کرنے والی ہے۔

حواشی
(١) أي: تقطع، وفي [أ، ب، ط، هـ]: (تجوف).
(٢) في [أ]: (سيلاني).
(٣) في [هـ]: (أبلة).
(٤) في [أ]: (وخيطة).
(٥) سقط من: [ب، ط، هـ].
(٦) في [ط، هـ]: (قطري).
(٧) في [ط، هـ]: (قطري).
(٨) في [أ، هـ]: (أكبر).
(٩) منقطع؛ عروة بن الزبير لم يسمع من عمر، أخرجه أحمد في الزهد ص ١١٨.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36120
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36120، ترقيم محمد عوامة 34545)