حدیث نمبر: 36119
٣٦١١٩ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن محمد بن يزيد الرحبي ومحمد الخولاني عن عروة بن رويم قال: كتب عمر إلى أبي عبيدة (كتابًا فقرأه على الناس بالجابية، من عبد اللَّه عمر أمير المؤمنين إلى أبي عبيدة) (١) سلام عليك أما بعد فإنه لم يُقِم أمر اللَّه في الناس إلا حصيف العقل بعيد القوة، لا يطلع الناس منه على عورة ولا (يحنق) (٢) في الحق على (حرته) (٣)، ولا يخاف في اللَّه لومة لائم -والسلام عليك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عروہ بن رویم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو خط لکھا، جو حضرت ابو عبیدہ نے جابیہ میں لوگوں کو پڑھ کر سنایا، اس میں تحریر تھا : اللہ کے بندے عمر امیر المومنین کی طرف سے ابو عبیدہ کے نام، تم پر سلامتی ہو، لوگوں میں اللہ کے حکم کو وہی شخص نافذ کرسکتا ہے جس کی عقل روشن ہو اور قوت خوب ہو، لوگ اس کے رازوں پر واقف نہ ہوسکیں اور وہ حق کے نفاذ میں گھبراتا نہ ہو اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ تم پر سلامتی ہو۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) في [أ، هـ]: (يحس)، وفي [س]: (يخشى).
(٣) أي: لا يحقد على رعيته، وفي [أ، هـ]: (حره).
(٤) منقطع؛ عروة لم يدرك عمر، أخرجه ابن أبي الدنيا في الإشراف (١٠٩)، وابن عساكر ٤٤/ ٢٧٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36119
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36119، ترقيم محمد عوامة 34544)