مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه عمر إلى الشام باب: سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کی طرف لشکر کی روانگی
٣٦١١٧ - حدثنا جعفر بن عون عن أبي العميس قال: أخبرني قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: لما قدم عمر الشام خطب الناس فقال: لا أعرفن رجلا طول (١) لفرسه في جماعة من الناس، قال: فأتى بغلام يحمل (قد ضربته رجل فرس، فقال له عمر: ما سمعت مقالتي بالأمس؟ قال: بلى يا أمير المؤمنين، قال: فما حملك على) (٢) ما صنعت؟ قال: رأيت من الطريق خلوة، (قال) (٣): ما أراك تعتذر بعذر، من (رجلان يحتسبان) (٤) على هذا فيخرجاه من المسجد فيوسعانه ضربًا، والقوم سكوت لا يجيبه منهم أحد، قال: ثم أعاد مقالته، فقال له أبو عبيدة: يا أمير المؤمنين! ما ترى في وجوه القوم كراهة أن تفضح صاحبهم، قال: فقال لأهل الغلام: انطلقوا به فعالجوه، فواللَّه لأن حدث به حدث لأجعلنك نكالًا، قال: فبريء الغلام وعافاه اللَّه (٥).حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام آئے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص لوگوں کے درمیان اپنے گھوڑے کی لگام کو ڈھیلا نہ کرے۔ پھر اگلے دن آپ کے پاس ایک غلام لایا گیا جس کو اس کے گھوڑے نے لات ماری تھی۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ کیا کل تم نے میری بات نہیں سنی تھی ؟ اس نے کہا اے امیر المومنین ! میں نے آپ کی بات سنی تھی۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ پھر تم نے ایسی حرکت کیوں کی ؟ اس نے کہا کہ میں نے راستہ خالی دیکھا تو جانور کی رسی ڈھیلی کردی۔ پھر حضرت عمر نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کون دو آدمی اسے مسجد سے باہر لے جا کر اسے سزا دیں گے۔ یہ بات سن کر کسی نے جواب نہ دیا۔ حضرت عمر نے پھر اپنی بات دہرائی تو حضرت ابو عبیدہ نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! لوگوں کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ ان کا ساتھی یوں رسوا ہو۔ پھر حضرت عمر نے غلام کے رشتہ داروں سے کہا کہ اسے لے جاؤ اور اس کا علاج کراؤ۔ اگر آئندہ کسی نے یہ حرکت کی تو میں اسے سزا دوں گا۔ پھر وہ لڑکا درست ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے عافیت عطا فرمائی۔