مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه عمر إلى الشام باب: سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کی طرف لشکر کی روانگی
٣٦١١٢ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: جاء بلال إلى عمر وهو بالشام وحوله أمراء الأجناد جلوسا فقال: يا عمر، فقال: ها أنا (ذا) (١) عمر، فقال له بلال: إنك بين هؤلاء وبين اللَّه وليس بينك وبين اللَّه أحد، فانظر (عن يمينك، وانظر) (٢) عن شمالك، وانظر من بين يديك و (من) (٣) خلفك، إن هؤلاء الذين حولك واللَّه إن يأكلون إلا لحوم الطير، فقال عمر: صدقت، واللَّه لا أقوم من مجلسي هذا حتى يتكلفوا لكل رجل من المسلمين مدي طعام وحظهما من الخل والزيت، فقالوا: ذاك إلينا يا أمير المؤمنين، قد أوسع اللَّه الرزق وأكثر الخير، قال: فنعم (٤).حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر شام میں تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہان کے پاس آئے، اس وقت حضرت عمر کے آس پاس لشکروں کے قائدین بیٹھے تھے۔ حضرت بلال نے آواز دی اے عمر ! حضرت عمر نے فرمایا کہ عمر یہاں ہے۔ حضرت بلال نے ان سے کہا کہ آپ ان لوگوں کے اور اللہ کے درمیان ہیں اور آپ کے اور اللہ کے درمیان کوئی نہیں، آپ اپنے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں دیکھئے، جو لوگ آپ کے اردگرد بیٹھے ہیں یہ صرف پرندوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا۔ میں اپنی اس نشست سے اس وقت تک نہیں اٹھوں گا جب تک ہر مسلمان کو اس بات کا پابند نہ کردوں کہ وہ دو مد غلہ اور سرکہ اور زیتون استعمال کرے۔ لوگوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! کیا ہمارے لئے یہ ہوگا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رزق کو وسیع اور خیر کو زیادہ کردیا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا ہاں۔