مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه عمر إلى الشام باب: سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کی طرف لشکر کی روانگی
حدیث نمبر: 36111
٣٦١١١ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: لما قدم عمر الشام استقبله الناس وهو على (بعيره) (١) فقالوا: يا أمير المؤمنين، لو ركبت برذونا يلقاك عظماء الناس ووجوههم، فقال عمر: (لا) (٢) أراكم هاهنا، إنما الأمر من (هاهنا) (٣) -وأشار بيده إلى السماء (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر شام آئے تو لوگوں نے ان کا استقبال کیا، وہ اپنے اونٹ پر سوار تھے، لوگوں نے کہا کہ امیر المومنین ! اگر آپ اعلیٰ نسل کے گھوڑے پر سوار ہوتے تو اچھا ہوتا، کیونکہ آپ سے یہاں کے بڑے اور سرکردہ لوگ ملیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ معاملات یہاں نہیں بلکہ وہاں طے ہوتے ہیں اور آپ نے آسمان کی طرف اشارہ فرمایا۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (البعير).
(٢) في [ك]: (ألا).
(٣) في [س، ط، هـ]: (هنا).