حدیث نمبر: 36110
٣٦١١٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن أسلم مولى عمر قال: لما قدمنا مع عمر الشام أناخ بعيره وذهب لحاجته، فألقيت فروتي بين شعبتي الرحل، فلما جاء ركب على الفروة، فلقينا أهل الشام يتلقون عمر ⦗٧٥⦘ فجعلوا ينظرون، فجعلت أشير إليهم، قال: يقول: تطمح أعينهم إلى مراكب من لا خلاق له -يريد مراكب العجم (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر کے خادم حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ جب ہم حضرت عمر کے ساتھ شام آئے تو انہوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ میں نے کجاوے میں پوستین بچھا دی، جب وہ واپس آئے تو پوستین پر سوار ہوئے۔ پھر ہم اہل شام کو ملے وہ مجھ سے حضرت عمر کا پوچھتے تھے تو میں ان کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ ان کی صورتحال دیکھ کر حضرت عمر فرماتے تھے کہ ان کی آنکھیں ان سواریوں کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں جو درستی سے خالی ہیں۔ یعنی عجمیوں کی سواریوں کی طرف۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36110
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36110، ترقيم محمد عوامة 34535)