مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه عمر إلى الشام باب: سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کی طرف لشکر کی روانگی
٣٦١٠٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي وائل عن (عزرة) (١) بن ⦗٧٤⦘ قيس البجلي أن عمر بن الخطاب لما عزل خالد بن الوليد واستعمل أبا عبيدة على الشام قام خالد فخطب الناس فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: إن أمير المؤمنين استعملني على الشام حتى إذا كانت (بثنية) (٢) وعسلا عزلني وآثر بها غيري، قال: فقام رجل من الناس من تحته فقال: اصبر أيها الأمير فإنها الفتنة، قال: فقال خالد: أما وابن الخطاب حي فلا، ولكن إذا كان الناس (بذي بلي وبذي بلي) (٣)، وحتى يأتي الرجل الأرض يلتمس فيها ما ليس في أرضه فلا يجده (٤).حضرت عزرہ بن قیس بجلی فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر نے حضرت خالد بن ولید کو معزول کردیا اور شام میں حضرت ابو عبیدہ کو حاکم مقرر کردیا تو حضرت خالد نے خطبہ دیا، اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا کہ بیشک امیر المومنین نے مجھے شام پر عامل مقرر کیا، پھر جب مکھن اور شہد رہ گیا تو مجھے معزول کرکے مجھ پر کسی دوسرے کو ترجیح دے دی۔ اس پر ایک آدمی نے کھڑے ہوکر کہا کہ اے امیر صبر کیجئے، یہ ایک فتنہ ہے۔ حضرت خالد نے فرمایا کہ جب تک حضرت عمر حیات ہیں تب تک تو کوئی فتنہ نہیں، پھر جب لوگ بغیر امیر کے ہوجائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی ایک سرزمین میں آئے گا اور اس میں وہ چیز تلاش کرے گا جو اس کی سرزمین میں نہیں ہے لیکن وہ اسے نہیں پائے گا۔