مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه عمر إلى الشام باب: سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کی طرف لشکر کی روانگی
٣٦١٠٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: لما أتى أبو عبيدة الشام حصر هو وأصحابه وأصابهم جهد شديد (١) فكتب إليه عمر: سلام عليكم أما بعد فإنه لم تكن شدة إلا جعل اللَّه بعدها فرجا، ولن يغلب عسر يسرين، وكتب إليه: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [آل عمران: ٢٠٠]، قال: وكتب إليه أبو عبيدة: سلام عليكم، أما بعد فإن اللَّه قال: ﴿أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ. .﴾ [الحديد: ٢٠] إلى آخر الآية، قال: فخرج عمر بكتاب أبي عبيدة (فقرأه) (٢) على الناس فقال: يا أهل المدينة! إنما كتب أبو عبيدة يعرض بكم ويحثكم على الجهاد، قال زيد: (قال أبي) (٣): قال: إني لقائم في السوق (إذا قبل) (٤) قوم مبيضين قد هبطوا من الثنية فيهم حذيفة بن اليمان يبشرون، قال: فخرجت أشتد حتى دخلت على عمر فقلت: يا أمير المؤمنين أبشر بنصر اللَّه والفتح، فقال عمر: اللَّه أكبر، رب قائل: لو كان خالد بن الوليد (٥).حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبیدہ شام آئے تو وہ اور ان کے ساتھی گھیر لئے گئے اور انہیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ حضرت عمر نے ان کی طرف خط لکھاجس میں سلام کے بعد تحریر کیا کہ اللہ نے ہر پریشانی کے بعد آسانی رکھی ہے۔ کوئی ایک پریشانی دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔ آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت بھی ان کی طرف لکھ بھیجی { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ } راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ نے انہیں جواب میں تحریر کیا {إِنَّمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَزِینَۃٌ وَتَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الأَمْوَالِ وَالأَوْلاَدِ } پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ کا خط لوگوں کو سنایا اور ان سے فرمایا کہ اے مدینہ والو ! حضرت ابو عبیدہ تمہیں جہاد کی ترغیب دے رہے ہیں۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا کہ میں بازار میں کھڑا تھا کہ کچھ لوگ وادی سے اترتے ہوئے آئے، ان میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی تھے اور وہ فتح کی خوشخبری دے رہے تھے۔ میں بھی خوشی میں باہر آیا اور حضرت عمر کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین اللہ کی مدد اور فتح کی خوشخبری ہو۔ حضرت عمر نے اللہ اکبر کہا۔ کسی کہنے والے نے کہا کہ کاش خالد بن ولید ہوتے۔