حدیث نمبر: 36096
٣٦٠٩٦ - حدثنا ابن عيينة عن محمد بن عبد الرحمن عن أبيه قال: لما قدم (على) (١) عمر فتح تستر وتستر من أرض البصرة، سألهم: هل من (مغربة) (٢) قالوا: رجل من المسلمين لحق بالمشركين فأخذناه، قال: ما صنعتم به؟ قالوا: قتلناه، قال: أفلا أدخلتموه بيتا وأغلقتم عليه بابا وأطعمتموه كل يوم رغيفا (ثم) (٣) (استتبتموه) (٤) ثلاثًا، فإن تاب وإلا قتلتموه ثم قال: اللهم لم أشهد ولم آمر ولم أرض إذ بلغني أو حين بلغني (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن عبد الرحمن کے والد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تستر کی فتح کی خبر ملی تو آپ نے پوچھا کہ کیا وہاں کوئی عجیب بات پیش آئی ؟ آپ کو بتایا گیا کہ ایک مسلمان مرتد ہوکر مشرکین سے جاملا، ہم نے اس پکڑ لیا۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ تم نے پھر اس کا کیا کیا ؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے قتل کردیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اسے قید میں کیوں نہ رکھا، تمہیں چاہئے تھا کہ اسے تین دن قید میں رکھتے، اسے روزانہ ایک روٹی دیتے اور اسلام میں واپس آنے کا کہتے۔ اگر وہ توبہ کرلیتا تو ٹھیک وگرنہ تم اسے قتل کردیتے۔ پھر حضرت عمر نے دعا کی کہ اے اللہ ! تو گواہ رہنا میں نے اس کا حکم بھی نہیں دیا اور میں اس پر راضی بھی نہیں ہوں۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ب]: (معربة).
(٣) في [هـ]: (حتى).
(٤) في [ب]: (استبتموه).
(٥) منقطع ضعيف؛ محمد بن عبد الرحمن هو ابن أبي ليلى، سيئ الحفظ ولم يسمع أباه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36096
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36096، ترقيم محمد عوامة 34521)