حدیث نمبر: 36089
٣٦٠٨٩ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن أبيه عن (سديس) (١) العدوي قال: غزونا مع الأمير (الأُبلّة) (٢)، فظفرنا (بها) (٣) (ثم انتهينا) (٤) ⦗٦٥⦘ (إلى) (٥) الأهواز (وبها ناس من الزط والأساوره فقاتلناهم قتالًا شديدًا) (٦) فظفرنا (بهم) (٧) وأصبنا سبيا كثيرا فاقتسمناهم، فأصاب الرجل الرأس والاثنين، فوقعنا على النساء، فكتب أميرنا إلى عمر بن الخطاب بالذي كان، فكتب إليه إنه لا طاقة لكم (بعمارة) (٨) الأرض، خلوا ما في أيديكم من السبي، ولا تملكوا أحدا منهم (أحدًا) (٩) واجعلوا عليهم من الخراج قدر ما في أيديهم من الأرض فتركنا ما في أيدينا من السبي، فكم من ولد لنا غلبه الهماس؟ وكان فيمن أصبنا أناس من الزط يتشبهون بالعرب (يوفرون) (١٠) لحاهم ويأتزرون ويحتبون في مجالسهم، فكتب فيهم إلى عمر، فكتب إليه عمر: أن أدنهم منك، فمن أسلم منهم فألحقه بالمسلمين، فلما (بلوا بالناس) (١١) لم يكن (عندهم) (١٢) (بأس) (١٣)، وكانت الأساورة أشد منهم بأسًا، فكتب فيهم إلى عمر فكتب إليه عمر: أن أدنهم منك فمن أسلم (منهم) (١٤) فألحقه بالمسلمين (١٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سدیس عدوی فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے امیر کے ساتھ ابلہ کی لڑائی میں حصہ لیا۔ وہاں ہم کامیاب ہوئے، پھر ہم اہواز گئے، وہاں سوڈان اور اس اورہ کے لوگ تھے۔ ہم نے ان سے زبردست لڑائی کی اور ہم کامیاب ہوگئے۔ اس میں بہت سے قیدی ہمارے ہاتھ لگے اور ہم نے انہیں آپس میں تقسیم کرلیا۔ بعض لوگوں کو ایک اور بعض کو دو قیدی ملے۔ ہم نے اپنی مملوکہ عورتوں سے جماع بھی کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے ہمیں خط لکھا جس میں تحریر تھا کہ تمہیں ان قیدیوں پر قبضہ جمانے کا کوئی حق نہیں، سب قیدیوں کو آزاد کردو اور تم ان میں سے کسی کے مالک نہیں ہو۔ ان کے پاس جتنی زمین ہے اس کے بقدر ان سے خراج لو۔ چناچہ اس حکم کے آنے کے بعد ہم نے سب قیدیوں کو آزاد کردیا۔ جن سوڈانی لوگوں پر ہم غالب آئے تھے ان میں سے بہت سے عربوں کے مشابہ تھے۔ لمبی داڑھی رکھتے تھے، ازار باندھتے تھے اور ٹانگوں کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھتے تھے۔ ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنے قریب کرو، ان میں سے جو اسلام قبول کرلے اسے مسلمانوں کے ساتھ شامل کردو۔ جب وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل جائیں گے تو ان میں سختی نہیں رہے گی۔ اس اورہ ان سے زیادہ زور آور تھے۔ ان کے بارے میں بھی حضرت عمر کو لکھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ ان کو قریب کرو جو اسلام قبول کرلے اسے مسلمانوں کے ساتھ ملا دو ۔

حواشی
(١) كذا في النسخ، ويوافق ما في الإصابة ٣/ ٢٥٣، وفي كتب التراجم: (شويس).
(٢) في [أ]: (الأيلة)، قال ابن الأثير في النهاية ١/ ١٦: "هي بضم الهمزة والباء وتشديد اللام: البلد المعروف قرب البصرة من جانبها البحري".
(٣) في [ب]: (به).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٧) في [هـ]: (بها).
(٨) في [أ، ب]: (بعمارض).
(٩) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(١٠) في [أ، ط، هـ]: (يؤثرون)، وفي [ب]: (يوقرون).
(١١) في [هـ]: (بلونا الناس).
(١٢) في [أ، ب، جـ]: (عنده).
(١٣) في [أ، ب]: (ناس).
(١٤) سقط من: [ط، هـ].
(١٥) مجهول؛ لجهالة عبد العزيز بن مهران.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36089
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36089، ترقيم محمد عوامة 34516)