حدیث نمبر: 36088
٣٦٠٨٨ - حدثنا ريحان بن سعيد قال: حدثني (مرزوق) (١) بن (عمرو) (٢) قال: حدثني أبو فرقد قال: كنا مع أبي موسى يوم فتحنا سوق الأهواز، فسعى رجل من المشركين، وسعى رجلان من المسلمين خلفه قال: فبينا هو يسعى ويسعيان إذ قال له أحدهما: مترس، فقام الرجل فأخذاه، (فجاءا) (٣) به أبا موسى، وأبو موسى يضرب أعناق الأسارى حتى انتهى الأمر إلى الرجل، فقال أحد الرجلين: إن هذا (٤) جعل له الأمان، قال أبو موسى: وكيف جعل له الأمان؟ قال: إنه كان يسعى ذاهبا في الأرض فقلت له: مترس فقام، فقال (٥) أبو موسى: وما مترس؟ قال: لا تخف، قال: هذا أمان، خليا سبيله، قال: (فخليا) (٦) سبيل الرجل (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو فرقد فرماتے ہیں کہ جب ہم نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اہواز کے بازار کو فتح کیا تو مشرکین کا ایک آدمی بھاگا۔ دو مسلمان بھی اس کے پیچھے بھاگے، دوڑتے ہوئے ایک مسلمان نے اس سے کہا ” مترس “ یہ سن کر وہ رک گیا، انہوں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابو موسیٰ کے پاس لے آئے۔ حضرت ابو موسیٰ قیدیوں کے سر قلم کررہے تھے، جب اس آدمی کی باری آئی تو اسے پکڑنے والے مسلمانوں نے کہا کہ اسے امان دی گئی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا کہ اسے کیسے امان دی گئی ؟ اس آدمی نے کہا کہ یہ بھاگ رہا تھا میں نے اسے کہا ” مترس “ تو یہ کھڑا ہوگیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا کہ مترس کا کیا مطلب ہے ؟ اس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے مت ڈرو۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ یہ امان ہے۔ اس آدمی کو جانے دو ۔ لہٰذا اس آدمی کو آزاد کردیا گیا۔

حواشی
(١) في [ز]: (مروان).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (عمر).
(٣) في [أ]: (فجاءوا).
(٤) في [ط، هـ]: زيادة (قد).
(٥) في [جـ]: زيادة (له).
(٦) في [ب، س]: (فخلينا).
(٧) مجهول؛ لجهالة مرزوق، وأبي فرقد.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36088
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36088، ترقيم محمد عوامة 34515)