حدیث نمبر: 36082
٣٦٠٨٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام عن قتادة عن زرارة بن (١) أوفى عن مطرف بن مالك أنه قال: شهدت فتح تستر مع الأشعري، قال: فأصبنا دانيال بالسوس، قال: (فكان أهل) (٢) السوس إذا (أسنتوا) (٣) أخرجوه (فاستسقوا) (٤) به، وأصبنا معه ستين جرة نحتمة، قال: ففتحنا جرة من أدناها وجرة من أوسطها وجرة من أقصاها، فوجدنا في كل جرة عشرة آلاف، قال همام: ما أراه (إلا قال) (٥): عشرة آلاف، وأصبنا معه ريطتين من (كتان) (٦)، وأصبنا معه ربعة فيها كتاب، وكان أول رجل وقع عليه (رجل) (٧) من بلعنبر يقال (له) (٨) (حرقوس) (٩)، قال: (فأعطاه) (١٠) الأشعري (الريطتين) (١١) وأعطاه مائتي درهم، قال: ثم إنه طلب إليه (الريطتين) (١٢) بعد ذلك فأبى أن يردهما (١٣) وشقهما عمائم بين أصحابه. - قال: وكان معنا أجير نصراني يسمى نعيما (قال) (١٤): بيعوني هذه الربعة بما فيها، قالوا: إن لم يكن فيها ذهب أو فضة أو كتاب اللَّه، (قال) (١٥): فإن الذي فيها ⦗٦٢⦘ كتاب اللَّه، فكرهوا أن (يبيعوه) (١٦) الكتاب، (فبعناه) (١٧) الربعة بدرهمين، ووهبنا له الكتاب، قال قتادة: فمن ثم كره بيع المصاحف لأن الأشعري وأصحابه كرهوا بيع ذلك الكتاب (١٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مطرف بن مالک فرماتے ہیں کہ میں تستر کی فتح میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ مقام سوس میں ہمیں حضرت دانیال علیہ السلام کی قبر ملی۔ اہل سوس کا معمول تھا کہ جب ان کے یہاں قحط آتا تو وہ ان کے ذریعے بارش طلب کیا کرتے تھے۔ ہمیں ان کے ساتھ ساٹھ گھڑے ملے جن کے منہ مہر سے بند کئے گئے تھے۔ ہم نے ایک گھڑے کو نیچے سے، ایک کو درمیان سے اور ایک کو اوپر سے کھولا تو ہر گھڑے میں دس ہزار درہم تھے۔ ساتھ ہمیں روئی کے کپڑے کے دو بنڈل ملے اور کتابوں کی ایک الماری ملی۔ سب سے پہلے بلعنبر کے ایک آدمی نے حملہ کیا تھا جس کا نام حرقوس تھا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے دو بنڈل اور دو سو درہم دیئے۔ بعد میں اس سے یہ دو بنڈل واپس مانگے گئے تو اس نے دینے سے انکار کردیا اور اسے کاٹ کر اپنے ساتھیوں کو عمامے بنا دیئے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس جنگ میں ہمارے ساتھ ایک نصرانی مزدور تھا جس کا نام ” نُعیم “ تھا۔ اس نے کہا کہ مجھے یہ الماری بیچ دو ۔ اس سے کہا گیا کہ اگر اس میں سونا یا چاندی یا اللہ کی کتاب نہ ہو تو لے لو۔ دیکھا گیا تو اس میں اللہ کی کتاب تھی۔ لہٰذا لوگوں نے کتاب کے بیچنے کو ناپسند خیال کیا اور الماری اسے دو درہم میں بیچ دی اور کتاب اسے ہدیہ کردی۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے مصاحف کی بیع کو مکروہ خیال کیا جانے لگا کیونکہ حضرت اشعری اور ان کے ساتھیوں نے اسے مکروہ خیال کیا تھا۔ حضرت ابو تمیمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا کہ حضرت دانیال کی قبر کو بیری اور ریحان کے پانی سے غسل دو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، کیونکہ انہوں نے دعا کی تھی کہ صرف مسلمان ہی ان کے وارث بنیں۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (أبي).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [أ، ب]: (استوا)، وفي [هـ]: (أسنوا).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (فاستقوا).
(٥) في [جـ]: تقديم وتأخير (قال: إلا).
(٦) في [ب]: (كتاب).
(٧) سقط من: [ط، ك، هـ].
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) في [ط، هـ]: (حرقوص).
(١٠) في [هـ]: (أعطاه).
(١١) في [هـ]: (الربطتين).
(١٢) في [هـ]: (الربطتين).
(١٣) في [جـ]: زيادة (عليه).
(١٤) في [أ، ب، جـ]: (فقال).
(١٥) سقط من: [ب].
(١٦) في [أ، ط، هـ]: (فيبيعوا).
(١٧) في [أ، ب]: (فسأله)، وفي [جـ]: (فبعنا له).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36082
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مطرف صدوق، ذكره ابن حبان في الثقات، وروى عنه جمع.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36082، ترقيم محمد عوامة 34510)