حدیث نمبر: 36080
٣٦٠٨٠ - حدثنا يحيى بن سعيد عن حبيب بن شهاب قال: حدثني أبي قال: كنت أول من أوقد في باب تستر، ورمي الأشعري فصرع، فلما فتحوها وأخذوا السبي أمرني على عشرة من قومي ونفلني برجل سوى سهمي وسهم فرسي قبل الغنيمة (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہاب فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے میں نے تستر کے دروازے پر آگ جلائی۔ حضرت اشعری کو تیر لگا اور وہ زمین پر گرگئے۔ جب تستر کا دروازہ کھولا گیا اور دشمنوں کو قیدی بنایا گیا تو حضرت ابو موسیٰ نے مجھے دس لوگوں پر امیر بنادیا، اور انہوں نے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے مجھے میرے اور میرے گھوڑے کے حصے کے علاوہ ایک آدمی کا حصہ دیا۔