حدیث نمبر: 36079
٣٦٠٧٩ - حدثنا غندر (عن حبيب بن شهاب) (١) عن (أبيه) (٢) أنه غزا مع أبي موسى حتى إذا كان يوم قدموا تستر رمي الأشعري فصرع، فقمت من ورائه ⦗٦٠⦘ (بالترس) (٣) حتى إذا أفاق قال: (فكنت) (٤) أول رجل من العرب أوقد في باب تستر نارا؟ قال: فلما فتحناها وأخذنا السبي قال أبو موسى: اختر من الجند عشرة رهط ليكونوا معك على هذا السبي حتى نأتيك، ثم مضى وراء ذلك في الأرض حتى فتحوا ما فتحوا من (الأرضين) (٥)، ثم رجعوا عليه، فقسم أبو موسى بينهم الغنائم، فكان يجعل للفارس سهمين وللراجل سهما، وكان لا يفرق بين المرأة وولدها عند البيع (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شہاب فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوموسیٰ کے ساتھ جہاد کیا۔ جس دن ہم تستر پہنچے، حضرت اشعری کو تیرلگا اور وہ زمین پر گرگئے۔ میں ان کے پیچھے کمان لے کر کھڑا ہوگیا۔ جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں عرب میں سے پہلا شخص ہوں جس نے تستر کے دروازے پر آگ جلائی ہے۔ جب ہم نے تستر کو فتح کرلیا اور قیدی پکڑ لئے تو حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا کہ فوج میں سے دس آدمیوں کا انتخاب کرلو کہ وہ ہماری واپسی تک ان قیدیوں کی نگرانی کے لئے تمہارے ساتھ رہیں۔ پھر وہ آگے بڑھے اور بہت سے علاقے فتح کرکے واپس آگئے۔ حضرت ابو موسیٰ نے مجاہدین کے درمیان مال غنیمت کو تقسیم کیا، وہ گھڑ سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ دیتے تھے اور جب کسی قیدی عورت کو فروخت کرتے تو اس کو اس کے بچے سے جدا نہ کرتے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (شهاب بن حبيب).
(٢) في [جـ]: (أمه).
(٣) في [أ، ب، جـ، هـ]: (بالفرس).
(٤) في [ط، هـ]: (كنت).
(٥) في [أ، ب، هـ]: (الأرض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36079
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن جرير في المفقود من تهذيب الآثار (١٠١٥)، وابن سعد ٧/ ٦٤٠، وخليفة بن خياط في التاريخ ص ١٤٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36079، ترقيم محمد عوامة 34507)