٣٦٠٧٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن حميد عن أنس قال: حاصرنا تستر فنزل الهرمزان على حكم عمر، فبعث به أبو موسى معي، فلما قدمنا على عمر (سكت) (١) الهرمزان (فلم) (٢) يتكلم، فقال له عمر: تكلم، فقال: أكلام حي أم كلام ميت؟ قال: تكلم فلا بأس، قال: إنا وإياكم معشر العرب ما خلى اللَّه بيننا وبينكم، فإنا كنا نقتلكم ونقصيكم، و (أما إذ) (٣) كان اللَّه معكم لم يكن لنا (بكم) (٤) يدان، فقال عمر: ما تقول يا أنس؟ قلت: يا أمير المؤمنين، تركت خلفي شوكة شديدة و (عددا) (٥) كثيرًا، إن قتلته أيس القوم من الحياة وكان أشد لشوكتهم، وإن استحييته طمع القوم، فقال: يا أنس أستحيى قاتل البراء بن مالك ومجزأة بن ثور، فلما خشيت أن يبسط عليه قلت: ليس إلى قتله سبيل، فقال عمر: لم؟ أعطاك؟ أصبت منه؟ قلت: ما فعلت ولكنك قلت له: تكلم فلا بأس، قال: لتجيئن بمن يشهد أو لأبدأن بعقوبتك (٦)، فخرجت من عنده فإذا أنا بالزبير قد حفظ ما حفظت، فشهد عنده فتركه (وأسلم الهرمزان) (٧) وفرض له (٨).حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تستر کا محاصرہ کیا تو ہرمزان نے حضرت عمر کی خلافت کے سامنے سر تسلیم خم کرلیا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ہرمزان کے ساتھ مجھے حضرت عمر کی طرف بھیجا۔ جب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہرمزان نے کوئی بات نہ کی اور خاموش رہا۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ بات کرو۔ اس نے کہا کہ زندہ شخص کی بات کروں یامردہ کی ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم بات کرو تم پر کوئی حرج نہیں۔ اس نے کہا کہ اے اہل عرب اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور تمہارے درمیان بہت فرق کردیا ہے، ایک وقت وہ تھا جب ہم تمہیں قتل کرتے تھے اور تم پر غالب آتے تھے۔ اور جب اللہ تمہارے ساتھ ہوگیا تو اب ہمارا تم پر زور نہیں چلتا۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ اے انس تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! میں نے اپنے پیچھے زبردست طاقت اور بڑی تعداد چھوڑی ہے۔ اگر آپ اس کو قتل کردیں گے تو لوگ زندگی سے مایوس ہوجائیں گے اور یہ ان کی قوت کے لئے سخت ہوگا اور اگر آپ اسے زندہ چھوڑیں گے تو لوگ لالچ کریں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا میں براء بن مالک اور مجزأۃ بن ثور کے قاتل کو زندہ چھوڑ دوں ! حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا کہ وہ اسے قتل کردیں گے تو میں نے کہا کہ آپ اسے قتل نہیں کرسکتے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں ؟ کیا تم نے اس سے کوئی مالی مدد لے لی ہے ؟ میں نے کہا میں نے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے اس سے کہا کہ تم بات کرو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم اس بات پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ پس میں گواہ کی تلاش میں نکلا تو مجھے حضرت زبیر ملے، انہیں بھی وہ بات یاد تھی جو مجھے یاد تھی۔ انہوں نے اس بات کی گواہی دی تو حضرت عمر نے ہرمزان کو چھوڑ دیا اور بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت عمر نے اس کا وظیفہ مقرر کردیا۔