٣٦٠٧٧ - حدثنا قراد أبو نوح قال: حدثنا عثمان بن معاوية القرشي عن أبيه عن عبد الرحمن بن أبي بكرة قال: لما نزل أبو موسى بالناس على الهرمزان ومن معه بتستر، (قال) (١): أقاموا سنة أو نحوها لا يخلصون إليه، قال: (وقد) (٢) كان الهرمزان قتل رجلا من (دهاقنتهم) (٣) وعظمائهم، فانطلق أخوه حتى أتى أبا موسى فقال: ما يجعل لي إن (دللتك) (٤) على المدخل. قال: سلني ما شئت، قال: أسألك أن تحقن دمي ودماء أهل بيتي وتخلي بيننا وبين ما في أيدينا من أموالنا ومساكننا، قال: فذاك لك، قال: أبغني إنسانا سابحا ذا عقل ولب يأتيك بأمر بين. ⦗٥٤⦘ قال: فأرسل أبو موسى إلى مجزأة بن ثور السدوسي فقال له: ابغني رجلا من قومك سابحا ذا عقل ولب، وليس بذاك في خطره، فإن أصيب كان مصابه على المسلمين يسيرًا، وإن سلم جاءنا (بثبت) (٥)، فإن لا أدري ما جاء به هذا الدهقان ولا آمن له ولا أثق به، قال: فقال مجزأة: قد وجدت، قال: من هو؟ فأت به، قال: أنا هو، قال أبو موسى: يرحمك اللَّه! ما هذا أردت فابغني رجلًا. قال: فقال مجزأة بن ثور: واللَّه لا أعمد إلى عجوز من بكر بن وائل (أفدي ابن) (٦) أم مجزأة بابنها، قال: أما إذا أبيت (فسر) (٧). فلبس الثياب البيض وأخذ منديلا وأخذ معه خنجرا، ثم انطلق إلى الدهقان حتى (سبح) (٨)، فأجاز المدينة فأدخله من مدخل الماء حيث يدخل على أهل المدينة. قال: فأدخله في مدخل شديد يضيق به أحيانا حتى ينبطح على بطنه، ويتسع أحيانا فيمشي قائمًا، ويحبو في بعض ذلك حتى دخل المدينة، وقد أمر أبو موسى أن يحفظ طريق باب المدينة وطريق (السور) (٩) ومنزل الهرمزان، فانطلق به الدهقان حتى (أراه) (١٠) طريق السور وطريق الباب. ثم انطلق به إلى منزل الهرمزان، وقد كان أبو موسى أوصاه: أن لا تسبقني بأمر، فلما رأى الهرمزان (قاعدا وحوله دهاقنته وهو يشرب فقال للدهقان: هذا الهرمزان؟) (١١) قال: نعم، قال: هذا الذي لقي المسلمون منه ما لقوا، أما واللَّه ⦗٥٥⦘ لأريحنهم منه، قال: فقال له الدهقان: لا تفعل فإنهم (يتحرزون) (١٢) ويحولون بينك وبين دخول هذا المدخل، فأبى مجزأة إلا أن يمضي على رأيه على قتل العلج، فأداره الدهقان و (ألاصه) (١٣) أن (يكف) (١٤) عن قتله، فأبى، فذكر الدهقان قول أبي موسى له: اتق أن لا تسبقني، بأمر، فقال: أليس قد أمرك صاحبك أن لا تسبقه بأمر؟ فقال: (هاه أما) (١٥) واللَّه (لولا هذا) (١٦) لأريحنهم منه. فرجع مع الدهقان إلى منزله فأقام يومه حتى أمسى، ثم رجع إلى أبي موسى فندب أبو موسى الناس معه، فانتدب ثلاثمائة ونيف، فأمرهم أن يلبس الرجل ثوبين لا يريد عليه، وسيفه، ففعل القوم، قال: فقعدوا على شاطئ النهر ينتظرون مجزأة أن يأتيهم وهو عند أبي موسى يوصيه ويأمره. قال عبد الرحمن بن أبي بكرة: وليس لهم هم غيره -يشير إلى الموت، لأنظرن (إلى) (١٧) ما يصنع والمائدة موضوعة بين يدي أبي موسى، قال: فكأنه (استحيا) (١٨) أن لا يتناول من المائدة شيئًا، قال: فتناول حبة من عنب فلاكها، فما قدر على أن يسيغها وأخذها رويدا فنبذها تحت الخوان، وودعه أبو موسى وأوصاه فقال مجزأة لأبي موسى: إني أسألك شيئا فأعطنيه، قال: لا تسألني شيئا إلا أعطيتكه، قال: فأعطني سيفك أتقلده إلى سيفي، فدعا له بسيفه فأعطاه إياه. ⦗٥٦⦘ فذهب إلى القوم وهم (ينتظرونه) (١٩) حتى كان في (وسط) (٢٠) منهم فكبر ووقع في الماء ووقع القوم جميعا، قال: يقول عبد الرحمن بن أبي بكرة: (كأنهم) (٢١) البط فسبحوا حتى (جاوزوا) (٢٢)، ثم انطلق بهم إلى (النقب) (٢٣) الذي يدخل الماء منه فكبر، ثم دخل. فلما أفضى إلى المدينة فنظر لم (يتم) (٢٤) معه إلا خمسة وثلاثون أو ستة وثلاثون رجلا، فقال لأصحابه: ألا أعود إليهم فأدخلهم؟ فقال رجل من أهل الكوفة يقال له الجبان لشجاعته: غيرك فليقل هذا يا مجزأة، إنما عليك نفسك، فامض لما أمرت به، فقال (له) (٢٥): أصبت. فمضى بطائفة منهم إلى الباب فوضعهم عليه ومضى بطائفة إلى السور، ومضى بمن بقي حتى سعد إلى السور، فانحدر عليه علج من الأساورة (ومعه نيزك) (٢٦) فطعن مجزأة (فأثبته) (٢٧)، فقال (لهم) (٢٨) مجزأة: امضوا لأمركم، لا يشغلنكم عني شيء، فألقوا عليه برذعة ليعرفوا مكانه ومضوا، وكبر المسلمون على السور و (عند) (٢٩) باب المدينة وفتحوا الباب وأقبل المسلمون على عادتهم حتى ⦗٥٧⦘ دخلوا المدينة، قال: قيل للهرمزان: (هذه) (٣٠) العرب قد دخلوا، قال: لا شك أنهم قد (دحسوها) (٣١) قال: من أين دخلوا؟ أمن السماء، قال: وتحصن في قصبة له. وأقبل أبو موسى يركض على فرس له عربي حتى دخل على أنس بن مالك وهو على الناس، قال: لكن نحن يا أبا حمزة لم نصنع اليوم شيئًا، وقد (فرغوا) (٣٢) من القوم (قتلوا) (٣٣) من قتلوا، وأسروا من أسروا، وأطافوا بالهرمزان (بقصبته) (٣٤) (فلم يخلصوا) (٣٥) إليه حتى أمنوه، ونزل على حكم عمر بن الخطاب أمير المؤمنين. قال: فبعث بهم أبو موسى مع أنس الهرمزان وأصحابه، فانطلقوا بهم حتى قدموا على عمر، قال: فأرسل إليه أنس: ما ترى في هؤلاء؟ أدخلهم عراة مكتفين، أو آمرهم فيأخذون حليهم و (بزتهم) (٣٦)، قال: فأرسل إليه عمر: لو (أدخلتهم) (٣٧) كما تقول عراة مكتفين لم يزيدوا على أن يكونوا أعلاجا، ولكن أدخلهم عليهم حليهم و (بزتهم) (٣٨) حتى يعلم المسلمون ما أفاء اللَّه عليهم، فأمرهم فأخذوا (بزتهم) (٣٩) وحليهم. ⦗٥٨⦘ ودخلوا على عمر، فقال الهرمزان لعمر: يا أمير المؤمنين! (أي كلام أكلمك، أكلام رجل حي له بقاء، أو كلام رجل مقتول؟ قال: فخرجت من عمر كلمة لم يردها: تكلم فلا بأس عليك، فقال له الهرمزان: يا أمير المؤمنين) (٤٠) قد علمت كيف منا وكنتم إذ كنا على ضلالة جميعًا، كانت القبيلة من قبائل العرب (ترى) (٤١) نشابة بعض أساورتنا فيهربون (الأرض) (٤٢) البعيدة، فلما هداكم اللَّه فكان معكم لم (نستطع) (٤٣) نقاتله. فرجع بهم أنس، فلما أمسى عمر أرسل إلى أنس أن اغد علي بأسراك أضرب أعناقهم، فأتاه أنس فقالوا: وللَّه يا عمر ما ذاك لك، قال: ولم؟ قال: إنك قد قلت للرجل: تكلم فلا بأس عليك، قال: لتأتيني على هذا ببرهان أو لأسوءنك، قال: فسأل أنس القوم جلساء عمر فقال: أما قال عمر للرجل تكلم فلا بأس عليك؟ قالوا: بلى! فكبر ذلك على عمر، قال: أما (لا) (٤٤). . فأخرجهم عني. فسيرهم إلى قرية يقال له: دهلك في البحر، فلما توجهوا بهم رفع عمر يديه فقال: اللهم اكسرها بهم -ثلاثًا، فركبوا السفينة، فاندقت بهم وانكسرت، وكانت قريبة من الأرض فخرجوا، فقال رجل من المسلمين: لو دعا أن يغرقهم لغرقوا ولكن إنما قال: اكسرها بهم قال: فأقرهم (٤٥).حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ مجاہدین کو لے کر ہرمزان کی سرکوبی کے لئے تستر پر حملہ آور ہوئے تو انہوں نے یہاں ایک سال تک قیام کیا لیکن فتح یاب نہ ہوسکے۔ ہرمزان نے اس دوران تستر کے ایک معزز اور سرکردہ آدمی کو قتل کرادیا۔ مقتول کا بھائی ایک دن حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ اگر میں آپ کو ہرمزان کے قلعے میں داخل ہونے کا راستہ بتادوں تو کیا انعام پاؤں گا ؟ حضرت ابوموسیٰ نے کہا تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ آپ میرا اور میرے گھر والوں کا خون معاف کردیں، مجھے اور میرے گھر والوں کو مال و اسباب لے کر نکلنے دیں۔ حضرت ابو موسیٰ نے اس کی حامی بھرلی۔ اس نے کہا کہ اب مجھے کوئی ایسا آدمی دیجئے جو تیراکی جانتا ہو اور عقل مند ہو۔ وہ آپ کے پاس واضح خبر لائے گا۔ (٢) حضرت ابو موسیٰ نے مجزأۃ بن ثور سدوسی کو بلایا اور ان سے کہا کہ اپنی قوم میں سے کوئی ایسا آدمی دیجئے جو تیراکی جانتاہو اور خوب عقل مند ہو، لیکن وہ ایسا اہم آدمی نہ ہو جس کی شہادت مسلمانوں کے لیے مایوسی کا سبب ہو۔ اگر وہ سلامت رہا تو ہمارے پاس خبر لے آئے گا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ آدمی کیا چاہتا ہے ، نہ مجھے اس پر اعتماد ہے۔ (٣) حضرت مجزأۃ نے کہا کہ وہ شخص مل گیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا کہ وہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں ہوں۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے، میں یہ نہیں چاہتا، مجھے کوئی اور آدمی دیجئے۔ حضرت مجزأۃ بن ثور نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں بکر بن وائل کی اس بڑھیا پر بھی اعتماد نہیں کرتا جس نے ام مجزأۃ کے بیٹے پر اپنے بیٹے کو فدا کردیا۔ بہر حال اگر آپ مناسب سمجھیں تو موقع عنایت فرمائیں۔ (٤) حضرت مجزأۃ نے سفید کپڑے پہنے اور ایک رومال اور ایک خنجر ہمراہ لے لیا۔ پھر اس آدمی کے ساتھ چلے، راستے میں ایک ندی کو تیر کر عبور کیا۔ پھر ندی کے راستے سے ان کے قلعے میں داخل ہوئے۔ بعض اوقات راستہ اتنا تنگ ہوجاتا کہ پیٹ کے بل چلنا پڑتا اور بعض اوقات راستہ کھل جاتا تو قدموں پر چلتے۔ بعض اوقات گھٹنوں کے بل چلتے۔ یہاں تک کہ شہر میں داخل ہوگئے۔ حضرت ابو موسیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ شہر کے دروازے کا راستہ اور اس کی فصیل کا راستہ اور ہرمزان کے گھر کو یاد رکھیں۔ وہ آدمی انہیں لے گیا اور انہیں فصیل کا راستہ، دروازے کا راستے اور ہرمزان کا گھر دکھا دیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت مجزأۃ کو وصیت کی تھی کہ خود سے کوئی کارروائی نہ کرنا جب تک مجھے علم نہ ہوجائے۔ (٥) جب حضرت مجزأۃ نے دیکھا کہ ہرمزان اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا شراب پی رہا ہے تو انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ یہ ہرمزان ہے ؟ اس نے کہا ہاں یہی ہے۔ حضرت مجزأۃ نے کہا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔ میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ اس آدمی نے کہا کہ ایسا نہ کرو۔ اس کی حفاظت پر مامور لوگ تمہیں اس تک پہنچنے بھی نہیں دیں گے اور مسلمان بھی قلعہ میں داخل نہ ہوسکیں گے۔ حضرت مجزأۃ اپنی بات پر اڑے رہے۔ اس آدمی نے بہت سمجھایا بالآخر حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی نصیحت یاد دلائی تو حضرت مجزأۃ رک گئے اور پھر اس آدمی کے گھر آگئے اور شام تک وہیں رہے۔ (٦) اگلے دن حضرت ابو موسیٰ کے پاس گئے، انہوں نے حضرت مجزأۃ کے ہمراہ تین سو سے زائد مجاہدین کا دستہ روانہ فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ ہر شخص صرف دو کپڑے پہنے اور تلوار ہمراہ رکھے۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر سب مجاہدین نہر کے کنارے بیٹھ کر حضرت مجزأۃ کا انتظار کرنے لگے، حضرت مجزأۃ حضرت ابوموسیٰ کے پاس تھے اور احکام و ہدایات لے رہے تھے۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو موت کے سوا کسی چیز کی چاہت نہ تھی۔ وہ منظر میری نظروں کے سامنے ہے کہ دستر خوان حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے سامنے بچھا ہوا تھا، لیکن حضرت مجزأۃ اس بات میں شرم محسوس کررہے تھے کہ دستر خوان سے کوئی چیز لیں۔ انہوں نے انگور کا ایک دانہ اٹھایا لیکن اسے بھی نگلنے کی ہمت نہ ہوئی اور اسے آہستگی سے نکال کر نیچے رکھ دیا۔ حضرت ابوموسیٰ نے انہیں نصیحتیں کیں اور انہیں رخصت کردیا۔ رخصت ہوتے ہوئے حضرت مجزأۃ نے حضرت ابو موسیٰ سے کہا کہ میں آپ سے ایک چیز مانگوں تو کیا آپ مجھے عطا فرمائیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ آپ نے جب بھی مجھ سے کوئی چیز مانگی ہے میں نے آپ کو پیش کی ہے۔ حضرت مجزأۃ نے کہا کہ مجھے اپنی تلوار دے دیجئے۔ چناچہ حضرت ابو موسیٰ نے اپنی تلوار ان کو دے دی۔ (٧) پھر حضرت مجزأۃ مجاہدین کے ساتھ آملے اور اللہ اکبر کہہ کر پانی میں کو دگئے۔ پیچھے سب لوگ بھی پانی میں کود گئے۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ وہ بطخوں کی طرح پانی میں تیر رہے تھے۔ انہوں نے ندی کو عبور کیا، پھر اس سوراخ کی طرف بڑھے جس سے پانی اندر جارہا تھا۔ جب وہ شہر کے قریب پہنچے تو ان ک