٣٦٠٧٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء ومحمد بن سوقة عن الشعبي قال: لما غزا سلمان بلنجر أصاب في قسمته صرة من مسك، فلما رجع (استودعها) (١) امرأته، فلما مرض مرضه الذي مات فيه، قال لامرأته وهو يموت: أريني الصرة التي استودعتك، فأتته بها فقال: ائتني بإناء نظيف، (فجاءت) (٢) به فقال: (أوجفيه) (٣) ثم انضحي به حولي فإنه يحضرني خلق من خلق اللَّه لا يأكلون الطعام ويجدون الريح، ثم قال: اخرجي عني وتعاهديني، فخرجت ثم رجعت وقد قضى (٤).حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان نے جب بلنجر کے علاقے میں جہاد میں حصہ لیا تو ان کے حصے میں مشک کی ایک تھیلی آئی جو انہوں نے اپنی بیوی کے پاس امانت کے طورپر رکھوا دی۔ پھر اپنے مرض الوفات میں انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ تھیلی مجھے لا دو ۔ پھر آپ نے ایک صاف برتن منگوایا اور اپنی بیوی سے فرمایا کہ اس خوشبو میں پانی ملا کر اسے میرے ارد گرد چھڑک دو ، کیونکہ میرے پاس اللہ کی ایسی مخلوق (فرشتے) آرہی ہے جو کھانا نہیں کھاتے لیکن خوشبو محسوس کرتے ہیں۔ پھر تم باہر چلی جاؤ۔ ان کی بیوی یہ عمل کرکے باہر چلی گئیں جب واپس آئیں تو ان کا انتقال ہوچکا تھا۔