مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه النعمان بن مقرن إلى نهاوند باب: سیدنا نعمان بن مقرن کی نہاوند کی جانب روانگی کا بیان
٣٦٠٦٣ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن (أبي) (١) الصلت وأبي (مسافع) (٢) (قالا) (٣): كتب إلينا عمر بن الخطاب ونحن مع النعمان بن مقرن: إذا لقيتم العدو فلا تفروا، وإذا غنمتم فلا تَغُلّوا، فلما لقينا العدو قال النعمان للناس: لا تواقعوهم، وذلك (في) (٤) يوم (جمعة) (٥) حتى يصعد أمير المؤمنين المنبر يستنصر، قال: ثم واقعناهم فانقض النعمان وقال: (سجوني) (٦) ثوبا، وأقبلوا على عدوكم ولا أهولنكم، قال: ففتح اللَّه علينا، قال: وأتى عمر ⦗٤٩⦘ الخبر أنه أصيب النعمان وفلان وفلان، ورجال لا نعرفهم يا أمير المؤمنين، قال: لكن اللَّه يعرفهم (٧).حضرت صلت اور حضرت ابو مسافع کہتے ہیں کہ ہم نعمان بن مقرن کے پاس تھے کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب کا خط آیا، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ جب تم دشمن کا سامناکرو تو مت بھاگنا، جب تمہیں مال ملے تو خیانت نہ کرنا۔ پس جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو حضرت نعمان نے لوگوں سے کہا کہ ان پر ابھی حملہ نہ کرنا۔ (وہ جمعہ کا دن تھا) جب تک امیرالمومنین منبر پر اللہ سے مدد کی دعا نہ کرلیں۔ پھر ہم نے دشمن پر چڑھائی کی اور حضرت نعمان فورا ہی موت کی زد میں آگئے۔ انہوں نے شدید زخمی ہونے کے بعد کہا کہ مجھ پر ایک کپڑا ڈال دو اور دشمن پر ٹوٹ پڑو اور میری وجہ سے کمزور نہ ہونا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمادی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ہوئی کہ حضرت نعمان اور فلاں فلاں لوگ شہید ہوگئے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی جنہیں ہم نہیں جانتے تو حضرت عمر نے فرمایا کہ لیکن اللہ انہیں جانتا ہے۔