مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه النعمان بن مقرن إلى نهاوند باب: سیدنا نعمان بن مقرن کی نہاوند کی جانب روانگی کا بیان
٣٦٠٦٠ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: ثنا أسباط بن نصر عن السدي عن عبد خير عن الربيع بن خثيم عن عبد اللَّه بن سلام وقع له في سهمه عجوز يهودية، فمر برأس الجالوت فقال: يا رأس الجالوت، تشتري مني هذه الجارية؟ فكلمها فإذا هي على دينه، قال: بكم، قال: بأربعة آلاف، قال: لا حاجة لي فيها، فحلف عبد اللَّه بن سلام: لا ينقصه، فسارّ عبد اللَّه بن سلام بشيء فقرأ هذه الآية: ﴿وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ﴾ [البقرة: ٨٥] الآية، فقال عبد اللَّه بن سلام: أنت؟ قال: نعم، قال: لتشترينها أو لتخرجن من دينك، قال: قد أخذتها، قال: فهب لي ما شئت، قال: فأخذ منه ألفين ورد عليه ألفين (١).حضرت ربیع بن خثیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام کو نہاوند کے مال غنیمت کے حصے میں ایک بوڑھی یہودن ملی۔ وہ اسے لے کر یہودیوں کے ایک مالدار سردار کے پاس سے گزرے اور اس سے کہا کہ کیا اس کو خریدو گے۔ اس نے بڑھیا سے بات کی تو اسے معلوم ہوا کہ وہ اس کے دین پر ہے۔ اس نے پوچھا کہ کتنے میں بیچو گے ؟ حضرت عبد اللہ بن سلام نے فرمایا کہ چار ہزار میں۔ اس نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن سلام نے قسم کھائی کہ وہ اس سے کم نہیں کریں گے۔ پھر حضرت عبد اللہ بن سلام سے اس نے سرگوشی کی اور قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی { وَإِنْ یَأْتُوکُمْ أُسَارَی تُفَادُوہُمْ } پھر اس نے کہا کہ تم عبد اللہ بن سلام ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ پھر اس سے کہا کہ یا تو یہ باندی مجھے بیچو یا اپنے دین سے نکل جاؤ۔ اس نے کہا کہ میں نے اس باندی کو لے لیا تم جو چاہو اس کی قیمت میں سے مجھے ہدیہ کردو۔ حضرت عبد اللہ بن سلام نے دو ہزار لے لئے اور دو ہزار اسے واپس کردیئے۔