مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه النعمان بن مقرن إلى نهاوند باب: سیدنا نعمان بن مقرن کی نہاوند کی جانب روانگی کا بیان
٣٦٠٥٥ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا مهدي بن ميمون قال: ثنا محمد بن عبد اللَّه ابن أبي يعقوب عن بشر بن شغاف عن عبد اللَّه بن سلام قال: لما كان حين فتحت نهاوند أصاب المسلمون سبايا من سبايا اليهود، قال: وأقبل رأس الجالوت يفادي سبايا اليهود، قال: وأصاب رجل من المسلمين جارية (بسرة) (١) صبيحة، قال: فأتاني فقال: (هل) (٢) لك أن تمشي معي إلى هذا الإنسان عسى أن يثمن لي بهذه الجارية، قال: فانطلقت معه فدخل على شيخ مستكبر له ترجمان فقال لترجمانه: سل هذه الجارية هل وقع عليها هذا (العربي) (٣)؟ قال: ورأيته غار حين رأى ⦗٤٢⦘ حسنها، قال: فراطنها بلسانه ففهمت الذي قال: فقلت له: (أثمت) (٤) بما في كتابك بسؤالك هذه الجارية على ما وراء ثيابها، فقال لي: كذبت ما يدريك ما في كتابي، قلت: أنا أعلم بكتابك منك، (قال) (٥): أنت أعلم بكتابي مني؟ قلت: أنا أعلم بكتابك منك، قال: من هذا؟ قالوا: عبد اللَّه بن سلام، قال: فانصرفت ذلك اليوم، قال: فبعث إلي رسولا يعزمه ليأتيني، قال: وبعث إلي بدابة، قال: فانطلقت إليه لعمر اللَّه احتسابا رجاء أن يسلم، فحبسني عنده ثلاثة أيام أقرأ عليه التوراة ويبكي، (قال: وقلت له: إنه واللَّه لهو النبي الذي تجدونه في كتابكم، قال: فقال لي: كيف أصنع باليهود) (٦)؟ قال: قلت له: إن اليهود لن يغنوا عنك من اللَّه شيئًا، قال: فغلب عليه الشقاء و (أبى) (٧) أن يسلم (٨).حضرت عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب نہاوند فتح ہوا تو بہت سے جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔ ایک مالدار شخص ان قیدیوں کا فدیہ دے کر انہیں چھڑا رہا تھا۔ ایک مسلمان کو ایک بہت خوبصورت اور جوان باندی ملی تھی۔ وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میرے ساتھ اس مالدار کی طرف چلو شاید وہ مجھے اس باندی کی قیمت دے دے۔ (٢) چنانچہ میں اس کے ساتھ چلا ، ہم ایک مغرور بوڑھے کے پاس پہنچے جس کا ایک ترجمان تھا۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس باندی سے سوال کرو کہ کیا اس عربی نے اس سے جماع کیا ہے ؟ وہ اس باندی کے حسن کو دیکھ کر غیرت میں آگیا تھا۔ اس نے باندی سے اپنی زبان میں کچھ مجہول بات کی جسے میں سمجھ گیا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ تو نے اس باندی سے اس کی خفیہ بات کے بارے میں سوال کرکے اپنی کتاب کی روشنی میں گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، تمہیں کیا معلوم کہ میری کتاب میں کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ میں تمہاری کتاب کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا تم میری کتاب کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو ؟ میں نے کہا کہ ہاں میں تمہاری کتاب کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عبد اللہ بن سلام ہیں۔ پھر اس دن میں واپس آگیا۔ (٣) پھر اس نے میری طرف ایک قاصد کو بھیجا اور مجھے تاکید کے ساتھ اپنے پاس بلایا۔ میں اس کے پاس اس نیت سے گیا کہ شاید وہ اسلام قبول کرلے اور میرے نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوجائے۔ اس نے مجھے اپنے پاس تین دن تک روکے رکھا۔ میں اسے تورات پڑھ کر سناتا تھا اور وہ روتا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ واللہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم تورات میں پاتے ہو۔ اس نے کہا کہ پھر میں یہود کا کیا کروں ؟ میں نے کہا کہ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتے۔ بہرحال اس پر بدبختی غالب آگئی اور اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔