حدیث نمبر: 36049
٣٦٠٤٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن وقاء بن إياس الأسدي عن أبي ظبيان قال: كنا مع سلمان في غزاة إما في جلولاء وإما في نهاوند، قال: فمر رجل وقد ⦗٣٩⦘ جنى فاكهة، فجعل يقسمها بين أصحابه، فمر سلمان فسبه، فرد على سلمان وهو لا يعرفه، قال: فقيل: هذا سلمان؟ قال: فرجع إلى سلمان يعتذر إليه قال: فقال له الرجل: ما يحل لنا من أهل الذمة يا أبا عبد اللَّه؟ قال: ثلاث من عماك إلى هداك، ومن فقرك إلى غناك، وإذا صحبت الصاحب منهم تأكل من طعامه ويأكل من طعامك، ويركب دابتك في أن لا تصرفه عن وجه (يريده) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ظبیان فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ وہ جلولاء کا غزوہ تھا یا نہاوند کا۔ ایک آدمی نے وہاں کسی باغ سے کچھ پھل توڑے تھے، اور اپنے ساتھیوں میں تقسیم کررہا تھا۔ وہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو حضرت سلمان نے اسے برا بھلا کہا۔ وہ حضرت سلمان کو جانتا نہ تھا لہٰذا اس نے جوابا انہیں برا بھلاکہا۔ اسے کسی نے بتایا کہ حضرت سلمان ہیں۔ پھر وہ حضرت سلمان کے پاس گیا اور ان سے معذرت کی۔ پھر اس نے سوال کیا کہ اے ابو عبد اللہ ! ہمارے لئے اہل ذمہ کی املاک میں سے کتنا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تین چیزیں : تمہارے نابینا پن سے تمہاری ہدایت تک، تمہارے فقر سے تمہارے غنا تک اور جب تم ان میں کسی کا ساتھ اختیار کرو تو ان کے کھانے میں سے کھاؤ اور وہ تمہارے کھانے میں سے کھائے۔ اور وہ تمہاری سواری پر سوار ہو اور تم اس کو اس جگہ سے نہ روکو جہاں وہ جانا چاہتا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (تريده)، وفي نسخة [هـ]: بعد ذلك: (تم بحمد اللَّه تعالى الجزء الثاني عشر، ويليه إن شاء اللَّه الجزء الثالث عشر، وأوله باب (في توجيه النعمان بن مقرن إلى نهاوند).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36049
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ وقاء صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36049، ترقيم محمد عوامة 34478)