٣٦٠٤٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسرائيل عن (أبي) (١) إسحاق عن سمرة بن (جعونة) (٢) العامري قال: أصبت قباء منسوجا بالذهب (٣) من ديباج يوم جلولاء فأردت بيعه فالقيته على منكبي، فمررت بعبد اللَّه بن عمر فقال: تبيع القباء؟ قلت: نعم، قال: بكم؟ قلت: بثلاثمائة درهم، قال: إن ثوبك لا يسوى ذلك، وإن شئت أخذت، قلت: قد شئت قال: فأخذه (٤).حضرت سمرہ بن جعونہ عامری فرماتے ہیں کہ مجھے جلولاء کی لڑائی میں ریشم کی بنی ہوئی اور سونے کی کڑھائی شدہ ایک قباء ملی۔ میں نے اسے بیچنے کا ارادہ کیا اور اسے اپنے کندھے پر رکھا۔ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم اس قباء کو بیچنا چاہتے ہو ؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو انہوں نے پوچھا کہ کتنے میں بیچو گے۔ میں نے کہا کہ تین سو درہم میں۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارایہ کپڑا اتنے کا نہیں ہے۔ اگر تم چاہو تو میں لے لوں۔ میں نے کہا میں چاہتا ہوں پھر انہوں نے وہ قباء لے لی۔