٣٦٠٤٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا هشام بن سعد قال: ثنا زيد بن أسلم عن أبيه قال: سمعت عبد اللَّه بن الأرقم صاحب بيت مال المسلمين يقول لعمر بن الخطاب: يا أمير المؤمنين عندنا حلية من حلية جلولاء وآنية ذهب وفضة (فر) (١) (فيها) (٢) رأيك، فقال: إذا رأيتني فارغا (فآذني) (٣) فجاء يوما فقال: إني أراك اليوم فارغًا يا أمير المؤمنين قال: ابسط لي نطعا في الجسر، فبسط له نطعا، ثم أتى بذلك المال فصب عليه فجاء فوقف عليه (ثم قال) (٤): اللهم إنك ذكرت هذا المال فقلت: ﴿زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ﴾ [آل عمران: ١٤]، وقلت: ﴿لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ﴾ [الحديد: ٢٣]، اللهم إنا لا نستطيع إلا أن نفرح بما زينت لنا، اللهم (٥) أنفقه في حق وأعوذ بك من شره (٦).حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ارقم مسلمانوں کے بیت المال کے امیر تھے۔ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! ہمارے پاس جلولاء کا زیور اور وہاں کے سونے و چاندی کے برتن ہیں۔ ان کے بارے میں اپنی رائے فرمادیجئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تم مجھے فارغ دیکھو تو اس بارے میں بتانا۔ ایک دن وہ حاضر ہوئے اور کہا کہ اے امیر المومنین ! آج آپ فارغ ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ایک چٹائی بچھاؤ۔ ایک چٹائی بچھائی گئی اور اس پر وہ سارا مال ڈالا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے اللہ تو نے اس مال کا ذکر کیا ہے اور تو نے فرمایا ہے { زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَائِ وَالْبَنِینَ وَالْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ } اور تو نے فرمایا ہے { لِکَیْلاَ تَأْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ ، وَلاَ تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمَ } اے اللہ ہمارے بس میں یہ نہیں ہے کہ ہم اس چیز پر خوش نہ ہوں جو تو نے ہمارے لیے مزین فرمائی ہے۔ اے اللہ اسے حق کے راستے میں خرچ فرما اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں۔