حدیث نمبر: 36044
٣٦٠٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: أتي (١) عمر بغنائم من غنائم جلولاء فيها ذهب وفضة، فجعل يقسمها بين الناس، فجاء ابن له يقال له عبد الرحمن فقال: يا أمير المؤمنين اكسني خاتمًا، فقال: اذهب إلى أمك تسقيك شربة من سويق، قال: فواللَّه ما أعطاه شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس جلولاء کا مال غنیمت لایا گیا اس میں سونا اور چاندی بھی موجود تھے۔ آپ وہ مال غنیمت لوگوں میں تقسیم کررہے تھے کہ ان کے ایک بیٹے جن کا نام عبد الرحمن تھا، وہ آئے اور عرض کیا اے امیر المومنین ! مجھے ایک انگوٹھی دے دیجئے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں ستو کا شربت پلائے گی۔ آپ نے انہیں کچھ نہ دیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (ابن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36044
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال هشام بن سعد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36044، ترقيم محمد عوامة 34473)