حدیث نمبر: 36042
٣٦٠٤٢ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا الصلت بن بهرام حدثنا (جميع) (١) بن عمير (التيمي) (٢) عن عبد اللَّه بن عمر قال: شهدت جلولاء فابتعت من الغنائم بأربعين ألفًا، فقدمت بها على عمر فقال: ما هذا؟ قلت: ابتعت من الغنائم بأربعين ألفًا، فقال: يا صفية (احفظي) (٣) بما قدم به عبد اللَّه (بن عمر) (٤)، عزمت عليك أن تخرجي منه شيئًا، قالت: يا أمير المؤمنين، وإن كانت غير طيب، قال: ذاك لك، ⦗٣٦⦘ قال: فقال لعبد اللَّه بن عمر: أرأيت (لو) (٥) انطلق بي إلى النار أكنت (مفتدي) (٦)، قلت: نعم ولو بكل شيء أقدر عليه، قال: فإني كأنني شاهدك يوم جلولاء وأنت تبايع (الناس) (٧) ويقولون: هذا عبد اللَّه بن عمر صاحب رسول اللَّه ﷺ وابن أمير المؤمنين وأكرم أهله عليه، و (أنت) (٨) كذلك قال: فإن (يرخصوا) (٩) عليك بمائة أحب إليهم من أن يغلوا عليكم بدرهم، وإني (مخاصم) (١٠)، وسأعطيك من الربح أفضل ما يربح رجل من قريش، أعطيك ربح الدرهم (درهمًا) (١١)، قال: فخلى علي سبعة أيام ثم دعا التجار فباعه بأربعمائة ألف، فأعطاني ثمانين ألفا، وبعث بثلاثمائة ألف وعشرين ألفا إلى سعد، فقال: اقسم هذا المال بين الذين شهدوا الوقعة، فإن كان (مات فيهم) (١٢) أحد فابعث بنصيبه إلى ورثته (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جلولاء کی جنگ میں شریک ہوا اور میں نے مال غنیمت سے چالیس ہزار حاصل کئے۔ پھر میں نے وہ حضرت عمر کی خدمت میں پیش کئے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نے مال غنیمت سے حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اے صفیہ ! جو چیز عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لائے ہیں اس کی حفاظت کرو۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم نے اس میں سے کچھ نہیں نکالنا۔ انہوں نے کہ اے امیر المومنین ! اگر کوئی چیز غیر طیب ہو تو ؟ حضرت عمر نے فرمایا کہ وہ تمہارے لئے ہے۔ (٢) پھر حضرت عمر نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اگر مجھے آگ کی طرف لے جایا جارہا ہو تو کیا تم یہ چیز فدیہ دے کر مجھے چھڑاؤ گے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں ضرور ایسا کروں گا بلکہ ہر وہ چیز جو میرے پاس ہو میں فدیے میں دے دوں گا۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ جلولاء کی جنگ میں لوگوں نے تمہارا خیال رکھا، تمہارے ہاتھ پر بیعت کی اور کہا کہ یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ امیر المومنین کے بیٹے ہیں، ان کے معزز ترین فرد ہیں اور آپ واقعی ایسے ہیں۔ وہ آپ کو سو درہم کی رعایت کریں یہ انہیں زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ وہ آپ سے ایک درہم زیادہ وصول کریں۔ میں تقسیم کرتا ہوں میں تمہیں قریش کے ہر آدمی سے زیادہ نفع دوں گا۔ پھر آپ نے تاجروں کو بلایا اور ان کی چیزیں چار لاکھ کی بیچ دیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے اسی ہزار دیئے اور تین لاکھ بیس ہزار حضرت سعد کو بھجوا دیئے اور فرمایا کہ یہ مال ان مجاہدین میں تقسیم کردو جو جنگ میں شریک تھے۔ اگر ان میں سے کوئی مرچکا ہو تو اس کے ورثہ کو دے دو ۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط]: (حميد).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (الليثي)، وفي [جـ، س، ص، ع]: (البتي)؛ والمثبت هو الموافق لكتب التراجم.
(٣) في [س]: (احتفظي).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [أ، ب]: (إن).
(٦) في [أ، هـ]: (مقتدي).
(٧) سقط من: [أ، هـ].
(٨) زيادة من: [هـ].
(٩) في [أ، ب]: (ترخصوا).
(١٠) في [هـ]: (قاسم).
(١١) سقط من: [جـ].
(١٢) في [أ، ب]: (مات منهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36042
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جميع بن عمير، أخرجه أبو عبيد في الأموال (٦٣٨)، وابن عساكر ٤٤/ ٣٢٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36042، ترقيم محمد عوامة 34471)