٣٦٠٢٠ - حدثنا ابن إدريس عن حنش بن الحارث عن (أبيه) (١) قال: مرت النخع بعمر فأقامهم فتصفحهم وهم ألفان وخمسمائة، وعليهم رجل يقال له أرطأة، فقال: إني لأرى (السرو) (٢) فيكم متربعًا سيروا إلى إخوانكم من أهل العراق، فقالوا: (لا) (٣) بل نسير إلى الشام، قال: سيروا إلى العراق، فقالوا: لا إكراه في الدين، فقال: سيروا إلى العراق، فلما قدموا العراق جعلوا يسحبون المهر فيذبحونه، فكتب إليهم أصلحوا فإن في الأمر معقلًا أو نفسًا (٤).حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نخعی لوگوں کے پاس سے گزرے اور انہیں گنا تو وہ اڑھائی ہزار تھے۔ ان کے سربراہ کا نام ارطاۃ تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تم میں عزت کو اترتے ہوئے دیکھتا ہوں تم عراق میں اپنے بھائیوں کے پاس چلے جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ہم تو شام کی طرف جائیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم عرا ق کی طرف جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ دین میں زبردستی نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم عراق کی طرف جاؤ۔ پس وہ عراق کی طرف گئے تو انہوں نے وہاں گھوڑے کے بچے کو پکڑ کر ذبح کرنا شروع کردیا۔ حضرت عمر نے انہیں خط لکھا : تم درست ہو جاؤ۔ اس لیے کہ ایسے معاملہ میں جان اہم ہے۔