٣٦٠١٩ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا حنش بن الحارث قال: سمعت أبي يذكر قال: قدمنا من اليمن، نزلنا المدينة فخرج علينا عمر فطاف في النخع ⦗٢٩⦘ ونظر إليهم فقال: يا معشر النخع إني أرى (الشرف) (١) فيكم متربعًا، فعليكم بالعراق وجموع فارس، فقلنا: يا أمير المؤمنين لا بل الشام نريد الهجرة إليها، قال: لا بل العراق، فإني قد رضيتها لكم، قال: حتى قال بعضنا: يا أمير المؤمنين لا إكراه في الدين، قال: (فلا) (٢) إكراه في الدين، عليكم بالعراق، قال: فيها جموع العجم، ونحن ألفان وخمسمائة، قال: فأتينا القادسية فقتل من النخع وأحد، وكذا وكذا رجلا من سائر الناس ثمانون (٣)، فقال عمر: ما شأن النخع، أصيبوا من بين سائر الناس، أفر الناس عنهم؛ قالوا: لا بل ولو أعظم الأمر (وحدهم) (٤) (٥).حضرت حارث فرماتے ہیں کہ جب ہم یمن سے واپس آئے اور مدینہ منور ہ ٹھہرے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے قبیلہ نخع والوں میں ایک چکر لگایا اور ان سے فرمایا کہ اے نخع والو ! میں تم میں عزت کو اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ تم عراق یافارس چلے جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! ہم تو شام کی طرف ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ نہیں عراق ٹھیک ہے۔ میں تمہارے لئے عراق سے راضی ہوں۔ ہم میں سے بعض نے کہا کہ اے امیر المومنین ! دین میں سختی نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ دین میں سختی نہیں ہے تمہارے لئے عراق ٹھیک ہے۔ اس میں عجم کی جماعتیں ہیں اور ہم صرف اڑھائی ہزار ہیں۔ پھر ہم قادسیہ آئے اور نخعی لوگوں میں سے صرف ایک آدمی شہید ہوا جبکہ باقی لوگوں میں سے اسی افراد مارے گئے۔ حضرت عمر کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا نخعی لوگوں نے کیا کیا کہ باقی لوگوں میں سے وہی شہید ہوئے، کیا لوگ انہیں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ لوگوں نے بتایا نہیں بلکہ وہ مشکل کاموں میں اپنی مرضی سے کودے تھے۔