حدیث نمبر: 36013
٣٦٠١٣ - حدثنا وكيع ثنا سفيان عن الأسود بن قيس العبدي عن شبر بن علقمة قال: لما كان يوم القادسية قام رجل من أهل فارس فدعا إلى المبارزة فذكر من عظمه، فقام إليه رجل قصير يقال له شبر بن علقمة، قال: فقال له الفارسي: هكذا -يعني احتمله ثم ضرب به الأرض فصرعه، قال: فأخذ شبر خنجرا كان مع الفارسي، فقال به في بطنه هكذا -يعني فحصحصه، قال: ثم انقلب عليه فقتله، ثم جاء بسلبه إلى سعد فقوم باثني (عشر) (١) ألفا فنفله سعد (إياه) (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شبر بن علقمہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں اہل فارس کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے مقابلے کی دعوت دی۔ اس نے اپنی بہادری کا ذکر کیا۔ پھر ایک چھوٹے قد کے آدمی جن کا نام شبر بن علقمہ تھا۔ وہ اس کی طرف آگے بڑھے، اس فارسی پہلوان نے شبر کو اٹھا کر زمین پردے مارا۔ شبر نے اس فارسی پہلوان کا خنجر پکڑا، اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ پھر اسے مار ڈالا۔ پھر اس کا سامان لے کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم کی قیمت لگائی اور اسے مال غنیمت کے طور پردے دیا۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) مجهول؛ لجهالة شبر بن علقمة، أخرجه الشافعي في السنن (٦١٧)، وسعيد بن منصور (٢٦٩٣)، والبيهقي ٦/ ٣١١، وعبد الرزاق (٩٤٧٣)، والبخاري في التاريخ ٤/ ٢٦٧، وابن حبان في الثقات ٤/ ٣٧١، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٤١٩.