حدیث نمبر: 3601
٣٦٠١ - (حدثنا) (١) عبد الأعلى عن الجريري عن أبي العلاء عن أبي رافع (قال) (٢): كان عمر يقرأ في صلاة الصبح بمائة من البقرة ويتبعها بسورة من المثاني أو من صدور المفصل، (ويقرأ بمائة من آل عمران ويتبعها بسورة من المثاني (أو) (٣) من صدور المفصل) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو رافع کہتے ہیں کہ حضرت عمر فجر کی نماز میں سورة بقرہ کی سو آیات پڑھتے اور ان کے ساتھ مثانی میں سے کوئی سورت ملاتے یا مفصل کے شروع سے کچھ پڑھتے۔ اور اگر سورة آل عمران کی سو آیات پڑھتے تو ان کے ساتھ بھی مثانی میں سے کوئی سورت ملاتے یا مفصل کے شروع سے کچھ پڑھتے۔ ! سورة الحجرات سے لے کرآخرِ قرآن تک کی سورتوں کو ” مفصل “ کہا جاتا ہے۔” مفصل “ کی تین قسمیں ہیں : طوال، اوساط اور قصار۔ طوال مفصل سورة الحجرات سے لے کر سورة البروج تک، اوساط مفصل سورة الطارق سے سورة البینۃ تک اور قصار مفصل سورة القدر سے لے کر سورة الناس تک ہیں۔ مذکورہ روایت میں ” مفصل کے شروع “ سے مراد طوال مفصل کی سورتیں۔ ہیں۔

حواشی
(١) في [ب، ك]: (نا).
(٢) زيادة في: [أ، ب، جـ، ك].
(٣) في [جـ]: (ومن).
(٤) سقط ما بين القوسين في [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3601
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3601، ترقيم محمد عوامة 3583)