٣٦٠٠٢ - حدثنا أبو معاوية عن (عمرو) (١) بن مهاجر عن إبراهيم بن محمد بن سعد عن أبيه قال: أتي سعد بأبي محجن يوم القادسية وقد شرب الخمر فأمر به (إلى) (٢) (القيد) (٣). قال: وكان بسعد جراحة، فلم يخرج يومئذ إلى الناس قال: فصعدوا به فوق العذيب (٤) لينظر إلى الناس، قال: واستعمل على الخيل خالد بن عرفطة. فلما التقى الناس قال أبو محجن: كفى حزنا أن تردى الخيل بالقنا … وأترك مشدودا علي وثاقيا فقال لابنة خصفة امرأة سعد: أطلقيني، ولك علي إن سلمني اللَّه أن أرجع حتى أضع رجلي في القيد، وإن قتلت (استرحتم) (٥) قال: فحلته حين التقى الناس. قال: فوثب على فرس لسعد يقال لها البلقاء، قال: ثم أخذ رمحًا ثم خرج، فجعل لا يحمل على ناحية من العدو إلا هزمهم، قال: وجعل الناس يقولون: هذا ⦗٢٠⦘ ملك، لما يرونه يصنع، قال: وجعل سعد يقول: (الضبر ضبر) (٦) البلقاء، والطعن طعن أبي محجن، وأبو محجن في القيد، قال: فلما هزم العدو رجع أبو محجن حتى وضع رجليه في القيد. فأخبرت بنت خصفة سعدًا بالذي كان من أمره، قال: فقال سعد: واللَّه لا أضرب اليوم رجلا أبلى اللَّه المسلمين على يدلِه ما أبلاهم، قال: فخلى سبيله، قال: فقال أبو محجن: قد كنت أشربها حيث كان يقام علي الحد فأطهر منها، فأما إذ بهرجتني فلا واللَّه لا أشربها أبدا.حضرت محمد بن سعد فرماتے ہیں کہ قادسیہ کی جنگ کے دوران ایک دن ابو محجن شاعر کو شراب پینے کے جرم میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس لایا گیا۔ حضرت سعد نے اسے بیڑیوں میں باندھنے کا حکم دے دیا۔ اس وقت حضرت سعد زخمی تھے اور لوگوں کے پاس نہ جاسکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مجاہدین کی نگرانی کے لئے عذیب نامی چشمے کے علاقے کو منتخب کیا اور معائنہ کرنے لگے۔ آپ نے خالد بن عرفطہ کو گھڑ سواروں کا قائد بنایا تھا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو ابو محجن نے ایک شعرکہا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ تم گھڑ سواروں کو ہلاک کررہے ہو اور مجھے بیڑیوں میں جکڑ رکھا ہے۔ (٢) پھر اس نے حضرت سعد کی بیوی بنت خصفہ سے کہا کہ تم مجھے آزاد کردو میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر زندہ رہا تو واپس آکر خود اس بیڑی میں خود کو جکڑ لوں گا اور اگر مار دیا گیا تو رحمت کی دعا کی درخواست کروں گا۔ پھر بنت خصفہ نے اس کھول دیا اورادھر میدان کارزار گرم ہوچکا تھا۔ (٣) اس نے ایک چھلانگ لگائی تو حضرت سعد کے بلقاء نامی گھوڑے پر سوار ہوا، ایک نیزہ پکڑا اور دشمنوں پر حملہ کردیا وہ جہاں جاتا تھا دشمنوں کو شکست دے دیتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ بادشاہ ہے ! اور حضرت سعد فرما رہے تھے کہ چھلانگ تو میرے گھوڑے بلقاء کی ہے اور نیزہ چلانا ابو محجن کا ہے جب کہ ابو محجن تو قید میں ہے ! ! (٤) جب دشمن کو شکست ہوگئی تو ابو محجن واپس آیا اور خود کو بیڑی میں جکڑ لیا۔ بنت خصفہ نے سارا واقعہ حضرت سعد کو بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں ایسے آدمی پر حد جاری نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائی۔ پھر حضرت سعد نے ابو محجن کو آزاد کردیا۔ اس پر ابو محجن نے کہا کہ جب مجھ پر حد قائم کی جاتی تھی تو میں شراب پیتا تھا اور حد کے ذریعہ پاک ہوجاتا تھا اور اب جبکہ آپ نے مجھ سے حد معاف کردی ہے تو خدا کی قسم میں شراب نہیں پیوں گا۔