حدیث نمبر: 36000
٣٦٠٠٠ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: كان سعد قد اشتكى قرحة في رجله يومئذ، فلم يخرج إلى القتال، (قال: فكانت) (١) من الناس انكشافة، قال: فقالت امرأة سعد وكانت قبله تحت المثنى بن حارثة الشيباني: لا مثنى للخيل، فلطمها سعد فقالت: (جبنا) (٢) وغيرة، (قال: ثم هزمناهم) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاؤں پر ایک پھوڑا نکل آیا اور وہ قتال کے لئے نہ جاسکے۔ لوگوں میں ایک بےچینی تھی۔ حضرت سعد کی زوجہ جو کہ پہلے مثنی بن حارثہ شیبانی کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ گھڑ سواروں کے لئے کوئی مثنی نہیں ہے ! اس پر حضرت سعد نے انہیں تھپڑ مارا۔ اس نے کہا کہ بزدلی اور غیرت کی وجہ سے ! ! ! راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے دشمنوں کو شکست دے دی۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ب]: (جينا).
(٣) سقط من: [أ، ب].