حدیث نمبر: 35999
٣٥٩٩٩ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: شهدت القادسية وكان سعد على الناس وجاء رستم فجعل عمرو بن معدي كرب الزبيدي (يمر) (١) على الصفوف ويقول: يا معشر المهاجرين كونوا (أسودا) (٢) أشداء (أغنى) (٣) شأنه، إنما الفارسي تيس (بعد) (٤) أن يلقي (نيزكه) (٥). قال: وكان معهم (أسوار) (٦) لا تسقط له نشابة، فقلنا له: يا أبا ثور، اتق ذاك، قال: فإنا لنقول ذاك إذ رمانا فأصاب فرسه، فحمل عمرو عليه فاعتنقه ثم ذبحه فأخذ سلبه سواري ذهب كانا عليه ومنطقة وقباء ديباج. وفر رجل من ثقيف فخلا بالمشركين فأخبرهم فقال: إن الناس في هذا الجانب وأشار إلى (بجيلة) (٧)، قال: فرموا (إلينا) (٨) (ستة عشر) (٩) فيلا عليها المقاتلة، وإلى سائر الناس (فيلين) (١٠) قال: وكان سعد يقول يومئذ: سا بجيلة (١١). ⦗١٨⦘ قال قيس: وكنا ربع الناس يوم القادسية، فأعطانا عمر ربع السواد فأخذناه ثلاث سنين، فوفد بعد ذلك جرير إلى عمر ومعه عمار بن ياسر فقال عمر: ألا (تخبراني) (١٢) عن منزليكم هذين؟ ومع ذلك إني لأسلكها وإني لأتبين في وجوهها أي المنزلين خير؟ قال: فقال جرير: أنا أخبرك يا أمير المؤمنين أما أحد المنزلين فأدنى نخلة من السواد إلى أرض العرب، وأما المنزل الآخر فأرض فارس (وعكها) (١٣) وحرها وبقها -يعني المدائن، قال: فكذبني عمار فقال: كذبت، قال: فقال عمر: أنت أكذب، قال: (ثم) (١٤) قال: ألا تخبروني عن (أميركم) (١٥) هذا (أمجزئ) (١٦) هو؟ قالوا: لا واللَّه ما هو بمجرئ ولا (كاف ولا) (١٧) عالم بالسياسة، فعزله وبعث المغيرة بن شعبة (١٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس فرماتے ہیں کہ میں جنگ قادسیہ میں مسلمانوں کی طرف سے شریک تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص اس جنگ میں مسلمانوں کے امیر تھے۔ رستم اپنی فوج کو لے کر آیا تو حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدی مسلمانوں کی صفوں میں سے گزرے اور ان سے کہا کہ اے مہاجرین کی جماعت ! بہادر شیر بن جاؤ، اصل شیر وہ ہے جو اپنی جان کی پروا نہ کرے۔ فارسیوں کا مزاج ہے کہ جب وہ اپنا نیزہ ڈال دیں تو بکرے کی طرح ہیں۔ ان کے علاقے کے گرد بڑی بڑی دیواریں ہیں جن سے تیر تجاوز نہیں کرتے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اے ابو ثور ! ان سے بچ کر رہنا۔ پھر ہم نے تیر چلائے، ایک تیر فارسیوں کے بادشاہ کے گھوڑے کو لگا، پھر حضرت عمرو نے اس پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا اور اس کا سامان حاصل کرلیا جس میں سونے کے دو کنگن تھے، ایک چادر تھی اور ایک ریشم کا چوغہ تھا۔ (٢) ثقیف کا ایک آدمی بھاگا اور اس نے جا کر مشرکین کو خبر دے دی اور اس نے بجیلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اس طرف سے آرہے ہیں، پھر انہوں نے ہماری طرف سولہ ہاتھی بھیجے جن پر جنگجو سوار تھے۔ اور تمام لوگوں کی طرف دوہاتھی بھیجے۔ حضرت سعد اس دن فرما رہے تھے کہ بجیلہ سے پیچھے ہٹ جاؤ۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ہم جنگ قادسیہ میں لوگوں کا ایک چوتھائی تھے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں آلات جنگ کا چوتھائی حصہ دیا اور ہم نے تین سال اسے استعمال کیا۔ (٣) اس کے بعد حضرت جریر حضرت عمار بن یاسر کی معیت میں ایک وفد کے ساتھ حضرت عمر کے پاس آئے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ تم دونوں نے مجھے اپنے ان دو گھروں کے بارے میں نہیں بتایا۔ اس کے باوجود میں تم سے سوال کرتا ہوں اور میں تمہارے چہروں سے اندازہ کرسکتا ہوں کہ دونوں میں سے کون سا گھر بہتر ہے ؟ حضرت جریر نے کہا کہ اے امیر المومنین ! میں آپ کو خبر دیتا ہوں۔ ایک گھر تو وہ ہے جو سرزمین عرب سے کم کھجوریں دینے والا ہے اور دوسرا گھر سرزمین فارس ہے، اس کی گرمی، اس کی تپش اور اس کی وسیع وادی یعنی مدائن ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمار نے میری تکذیب کی اور کہا کہ آپ نے جھوٹ بولا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں تمہارے امیر کے بارے میں بتاؤں کہ کیا وہ تمہارے لئے کافی ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ نہ تو وہ کافی ہیں اور نہ ہی سیاست کے رموز کو جانتے ہیں۔ پھر حضرت عمر نے انہیں معزول کرکے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو امیر بنا کر بھیج دیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (يمر).
(٢) في [جـ]: (أسود).
(٣) في [أ، ب]: (أعبى).
(٤) في [هـ]: (هد).
(٥) في [أ، ب]: (منزله).
(٦) في [أ]: (ساور)، وفي [ب، جـ]: (أساور).
(٧) في [ب]: (نخيلة).
(٨) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٩) في [أ، ب، جـ]: (السادسة عشر).
(١٠) في [أ، س]: (فليس).
(١١) كذا في النسخ، وفي تاريخ دمشق ٤٦/ ٣٧٩: (بجيلة).
(١٢) في [ب]: (يخبراني).
(١٣) في [أ، هـ]: (وعليها).
(١٤) في [هـ]: (لم).
(١٥) في [هـ]: (أمير).
(١٦) في [هـ]: (أمجري).
(١٧) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35999
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35999، ترقيم محمد عوامة 34432)